نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے بدھ کو ملک گیر الرٹ جاری کیا ہے کہ 2 سے 8 جولائی 2025 تک جاری رہنے والا مون سون سسٹم ملک کے مختلف حصوں میں موسلادھار بارشیں لانے اور ممکنہ سیلاب کا باعث بننے کا خدشہ ہے۔
الرٹ کے مطابق 5 سے 8 جولائی کے درمیان خیبر پختونخوا، آزاد جموں و کشمیر اور شمال مشرقی پنجاب میں شدید بارش متوقع ہے، جو لاہور، سیالکوٹ اور نارووال جیسے شہروں میں شہری سیلاب اور ڈی جی خان اور راجن پور اضلاع میں پہاڑی نالوں میں طغیانی کا باعث بن سکتی ہے۔
این ای او سی نے دریا کابل اور تربیلا ڈیم میں پانی کی بلند سطح کی بھی وارننگ دی ہے جبکہ گلگت بلتستان میں گلیشیئر، جھیلوں کے اچانک پھٹنے (جی ایل او ایف ایس) کے سبب شمالی پہاڑی علاقوں کی صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈز کا بھی خطرہ ہے۔
بیان کے مطابق موسمی ندی نالوں جیسے ڈیگ، بین اور پلکھو نالوں میں اچانک طغیانی کا خطرہ ہے۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے شہریوں سے محتاط رہنے اور خاص طور پر خطرات سے ممکنہ طور پر دوچار ہونے والے علاقوں میں حفاظتی اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔
عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ مخدوش عمارتوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں، طوفان کے دوران کم ہوتی ہوئی حد نگاہ کے باعث غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سیاحتی مقامات جانے سے پہلے موسم کی معلومات حاصل کریں۔
























Comments
Comments are closed.