وفاقی حکومت جمعہ (27 جون) کو مالی سال 2023-24 اور 2024-25 کے لیے 203.345 ارب روپے کی ضمنی اور اضافی گرانٹس بحث اور منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ضمنی گرانٹس اور اضافی گرانٹس کے مطالبات منظوری کے لیے پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں میں پیش کریں گے۔
قومی اسمبلی کے ایجنڈا دستاویزات کے مطابق، مالی سال 2024-25 کے لیے مجموعی طور پر 1.575 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی، جن پروائس ووٹنگ کی جائیگی۔
ایوان میں صدر مملکت (عوامی) کے عملے، رہائش اور الاؤنسز کے لیے 8 کروڑ 40 لاکھ روپے، سپریم کورٹ کے لیے 15 کروڑ 17 لاکھ 90 ہزار روپے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے 2 کروڑ 12 لاکھ 50 ہزار روپے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے لیے 1 ارب 32 کروڑ روپے کی ضمنی گرانٹس منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔
اسی طرح مالی سال 2023-24 کے لیے 180.87 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس بھی ایوان میں منظوری کے لیے پیش کی جائیں گی۔
دستاویزات کے مطابق مالی سال 2023-24 کے لیے 167.61 ارب روپے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی، 1.184 ارب روپے قلیل مدتی غیر ملکی قرضوں کی واپسی، 10.67 ارب روپے گرانٹس، سبسڈیز اور متفرق اخراجات، 96 کروڑ 40 لاکھ روپے پنشنز، 29 لاکھ روپے صدر مملکت (ذاتی) کے عملے، رہائش اور الاؤنسز، 38 کروڑ 99 لاکھ 10 ہزار روپے آڈٹ، اور 1 کروڑ 93 لاکھ 70 ہزار روپے فیڈرل ٹیکس محتسب کے لیے ضمنی گرانٹس کے طور پر شامل کیے گئے ہیں۔
مالی سال 2023-24 کے لیے 20.898 ارب روپے کی اضافی گرانٹس اور اخراجات کی منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیے جائیں گے جن میں صدر مملکت (ذاتی) کے عملے، رہائش اور الاؤنسز کے لیے 1 لاکھ 14 ہزار روپے، آڈٹ کے لیے 2 کروڑ 47 لاکھ 58 ہزار روپے، مقامی قرضوں کی واپسی کے لیے 20.835 ارب روپے اور فیڈرل ٹیکس محتسب کے لیے 3 کروڑ 75 لاکھ 60 ہزار روپے شامل ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.