وفاقی بجٹ 2025-26 کی منظوری سے ایک روز قبل بدھ کو قومی اسمبلی نے مالیات، انسانی حقوق، داخلہ اور قومی غذائی تحفظ کی وزارتوں کے لیے 3.951 ٹریلین روپے کی گرانٹس منظور کر لیں، تاکہ مالی سال جو 30 جون 2026 کو ختم ہوگا، کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ اس موقع پر اپوزیشن ارکان کی جانب سے پیش کیے گئے تمام کٹ موشنز مسترد کردیے گئے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اسپیکر سردار ایاز صادق نے وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کی توجہ دلائی کہ ترمیم شدہ فنانس بل 2025 جمعرات (آج) کو ایوان میں پیش کیا جائے گا، جس پر وزیر خزانہ نے اتفاق کیا۔
ایوان نے وزارتِ خزانہ کے لیے 3.56 ٹریلین روپے، وزارتِ داخلہ کے لیے 356.8 ارب روپے، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے لیے 34.05 ارب روپے اور وزارتِ انسانی حقوق کے لیے 1.74 ارب روپے کی گرانٹس کی منظوری دی۔
مجموعی طور پر وزارتِ خزانہ سے متعلق 14، وزارتِ داخلہ سے متعلق 6، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق سے متعلق 3 اور وزارتِ انسانی حقوق سے متعلق 5 گرانٹس کی منظوری دی گئی۔ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے یہ گرانٹس ایوان میں پیش کیں جنہیں اپوزیشن جماعتوں کے شدید احتجاج اور آخری لمحات میں ترامیم کی کوششوں کے باوجود منظور کرلیا گیا، تاہم وزیرِ خزانہ اپنے مؤقف پر قائم رہے۔
اپوزیشن کی جانب سے پیش کیے گئے کٹ موشنز کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، اور رواں مالی سال ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح 8.8 فیصد تک پہنچ چکی ہے جو 30 جون 2025 تک 10.4 فیصد تک جانے کی توقع ہے۔
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ وفاقی اخراجات میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 2 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سابق وزیرِاعظم عمران خان پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک سابق وزیرِاعظم بنی گالہ ہیلی کاپٹر پر جایا کرتے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے ایک کھرب روپے مختص کیے گئے ہیں اور اگر صوبوں کی شراکت شامل کی جائے تو یہ رقم چار کھرب روپے تک پہنچ جائے گی، اگر یہ رقم دانشمندی سے خرچ کی گئی تو یہ کافی ثابت ہوگی۔
محمد اورنگزیب نے معاشی اشاریوں میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مہنگائی میں کمی اور پالیسی ریٹ میں کمی جیسے عوامل مثبت پیش رفت کی علامت ہیں۔
وزارتِ خزانہ و محصولات ڈویژن سے متعلق گرانٹس پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ آزادانہ سروے اس بات کی تصدیق کررہے ہیں کہ کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہورہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ مالی سال وفاقی اخراجات میں صرف دو فیصد سے بھی کم اضافہ ہوگا جبکہ ماضی میں یہ اضافہ سالانہ 10 سے 13 فیصد تک ہوتا تھا۔
انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جاری اصلاحات کا بھی حوالہ دیا، جن کا مقصد شفافیت کو فروغ دینا ہے۔
وزارتِ انسانی حقوق سے متعلق کٹ موشنز پر بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عالمی انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں کے ایک گروپ نے پاکستان کی نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) کو ملک کی تاریخ میں پہلی بار ”اے“ درجہ دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی جا چکی ہے۔ اپوزیشن میں شامل تحریکِ انصاف کے ارکان کے احتجاج پر ردِعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے پاس عمران خان اور ان کی اہلیہ کو اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت دینے کا اختیار نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدالتیں آزاد ہیں اور قانون و آئین کے مطابق اپنا کام کر رہی ہیں — تاہم ان کے اس بیان پر تحریکِ انصاف کے ارکان مزید برہم ہو گئے اور عدلیہ پر جانبداری جبکہ حکومت پر بااثر اداروں کے ساتھ ملی بھگت کے الزامات عائد کیے۔
وزارتِ داخلہ سے متعلق کٹ موشنز پر بات کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ اب پاکستان کے پاسپورٹس میں عالمی معیار کی سیکیورٹی خصوصیات شامل کردی گئی ہیں تاکہ جعلسازی کی روک تھام ممکن بنائی جاسکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک بھر کے ایئرپورٹس اور بندرگاہیں اب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نظام سے منسلک کر دی گئی ہیں تاکہ کوئی بھی شخص بغیر درست ویزے اور قانونی دستاویزات کے ملک سے باہر نہ جاسکے۔
تحریکِ انصاف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) سے تعلق رکھنے والے ارکانِ اسمبلی نے حکومت کو کسانوں کے لیے ریلیف نہ دینے، زرعی شعبے کے نئے منصوبے شروع نہ کرنے اور تحقیقاتی اقدامات کے فقدان پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ بعض ارکان نے وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی سیاسی وابستگی پر سوال اٹھاتے ہوئے دریافت کیا کہ آیا وہ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی یا ایم کیو ایم (پاکستان) سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، خصوصاً اسلام آباد میں بڑھتے ہوئے امن و امان کے مسائل کے حوالے سے۔
قومی غذائی تحفظ و تحقیق ڈویژن سے متعلق کٹ موشنز پر بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت زرعی شعبے میں فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کھاد کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے اور اس کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا گیا ہے۔ گنے اور گندم کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسان منڈی میں منصفانہ اور مسابقتی نرخوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کپاس کی کاشت کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے اور اس سال 1 کروڑ گانٹھیں پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے جدید زرعی تکنیکوں کی تربیت کے مقصد سے 1,000 زرعی گریجویٹس کو چین بھی بھیجا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.