BR100 Increased By (0.23%)
BR30 Increased By (0.55%)
KSE100 Increased By (0.3%)
KSE30 Increased By (0.21%)
BAFL 58.12 Decreased By ▼ -0.04 (-0.07%)
BIPL 27.20 Decreased By ▼ -0.03 (-0.11%)
BOP 34.65 Increased By ▲ 0.25 (0.73%)
CNERGY 13.26 Increased By ▲ 0.15 (1.14%)
DFML 18.44 Increased By ▲ 0.04 (0.22%)
DGKC 216.05 Increased By ▲ 2.39 (1.12%)
FABL 99.85 Increased By ▲ 0.29 (0.29%)
FCCL 57.75 Decreased By ▼ -0.31 (-0.53%)
FFL 16.35 Increased By ▲ 0.12 (0.74%)
GGL 24.20 Increased By ▲ 0.22 (0.92%)
HBL 333.97 Decreased By ▼ -4.19 (-1.24%)
HUBC 213.98 Increased By ▲ 0.62 (0.29%)
HUMNL 10.55 Decreased By ▼ -0.03 (-0.28%)
KEL 7.43 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 27.67 No Change ▼ 0.00 (0%)
MLCF 102.67 Decreased By ▼ -0.08 (-0.08%)
OGDC 320.00 Increased By ▲ 1.08 (0.34%)
PAEL 42.91 Decreased By ▼ -0.19 (-0.44%)
PIBTL 16.64 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
PIOC 276.48 Increased By ▲ 3.48 (1.27%)
PPL 232.49 Increased By ▲ 3.04 (1.32%)
PRL 76.05 Increased By ▲ 5.25 (7.42%)
SNGP 103.33 Decreased By ▼ -1.25 (-1.2%)
SSGC 27.20 Decreased By ▼ -0.21 (-0.77%)
TELE 8.63 Increased By ▲ 0.10 (1.17%)
TPLP 15.69 Decreased By ▼ -0.07 (-0.44%)
TRG 60.22 Decreased By ▼ -0.07 (-0.12%)
UNITY 11.58 Decreased By ▼ -0.14 (-1.19%)
WTL 1.20 No Change ▼ 0.00 (0%)

علی اصغر ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ (اے اے ٹی ایم) نے حصص کی قیمت میں غیر معمولی اضافے سے متعلق خبروں کو مسترد کردیا ۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جمع کرائے گئے بیان میں کمپنی نے کہا کہ ایسی کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے اور مارچ 2025 کی ڈائریکٹرز رپورٹ میں کمپنی کی کارکردگی اور مستقبل کے منصوبے کے سوا کوئی نئی معلومات موجود نہیں۔

کمپنی نے مزید بتایا کہ اس کی ذیلی کمپنی، فضل سولر انرجی، نے اپنا سولر منصوبہ شروع کردیا ہے اور اہم مشینری اور سولر پینلز کی تنصیب جاری ہے۔

سابق ٹیکسٹائل یونٹ جو اب لاجسٹک سروس فراہم کنندہ بن چکا ہے نے کہا کہ انتظامیہ کو یقین ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی سولر پلانٹ جولائی 2025 کے اوائل میں فعال ہو جائے گا۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ حالیہ ہفتوں میں اے اے ٹی ایم کے حصص کی قیمت 40 روپے سے بڑھ کر 70 روپے سے زائد ہوچکی ہے اور اس رپورٹ کے فائل کیے جانے کے وقت یہ قیمت تقریباً 72 روپے فی شیئر تھی۔

کمپنی کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق علی اصغر ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ کا قیام 1969 میں ایک ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹ کے طور پر عمل میں آیا تھا۔

تاہم 2011 میں کمپنی کی انتظامیہ نے ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹ سے علیحدگی اختیار کر کے ویئر ہاؤسنگ اور لاجسٹکس کے شعبے میں سرمایہ کاری کا فیصلہ کیا۔

Comments

Comments are closed.