BR100 Decreased By (-0.64%)
BR30 Decreased By (-0.78%)
KSE100 Decreased By (-0.36%)
KSE30 Decreased By (-0.41%)
BAFL 57.12 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 27.47 Decreased By ▼ -0.15 (-0.54%)
BOP 33.95 Decreased By ▼ -0.66 (-1.91%)
CNERGY 10.95 Increased By ▲ 0.19 (1.77%)
DFML 18.20 Decreased By ▼ -0.21 (-1.14%)
DGKC 213.33 Decreased By ▼ -0.54 (-0.25%)
FABL 100.96 Decreased By ▼ -0.51 (-0.5%)
FCCL 55.85 Decreased By ▼ -0.62 (-1.1%)
FFL 16.21 Decreased By ▼ -0.64 (-3.8%)
GGL 25.08 Decreased By ▼ -0.68 (-2.64%)
HBL 306.84 Decreased By ▼ -1.34 (-0.43%)
HUBC 223.01 Decreased By ▼ -1.38 (-0.62%)
HUMNL 10.48 Decreased By ▼ -0.24 (-2.24%)
KEL 7.39 Decreased By ▼ -0.08 (-1.07%)
LOTCHEM 27.70 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
MLCF 96.91 Increased By ▲ 0.35 (0.36%)
OGDC 321.00 Decreased By ▼ -2.45 (-0.76%)
PAEL 43.19 Decreased By ▼ -0.18 (-0.42%)
PIBTL 16.73 Decreased By ▼ -0.07 (-0.42%)
PIOC 287.58 Decreased By ▼ -8.31 (-2.81%)
PPL 222.84 Decreased By ▼ -1.83 (-0.81%)
PRL 59.15 Increased By ▲ 3.64 (6.56%)
SNGP 103.86 Decreased By ▼ -0.81 (-0.77%)
SSGC 25.96 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
TELE 8.56 Decreased By ▼ -0.09 (-1.04%)
TPLP 12.76 Decreased By ▼ -0.42 (-3.19%)
TRG 60.39 Increased By ▲ 0.34 (0.57%)
UNITY 10.20 Decreased By ▼ -0.04 (-0.39%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.04 (-3.17%)
کاروبار اور معیشت

اسرائیل، ایران جنگ بندی: کے ایس ای 100 انڈیکس میں 6 ہزار پوائنٹس کا زبردست اضافہ

  • تجارت شروع ہونے کے بعد ایک گھنٹے تک کاروباری عمل معطل رہا
شائع اپ ڈیٹ

**امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں خریداری کی زبردست لہر واپس آئی جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 6 ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پورے کاروباری سیشن کے دوران تیزی کا رجحان برقرار رہا جس کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 122,725.21 پوائںٹس پر جاپہنچا۔

کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 6,079.16 پوائنٹس یا 5.23 اضافے کے ساتھ 122,246.63 پوائنٹس پر بند ہوا۔

عارف حبیب لمیٹڈ نے ایک پوسٹ میں کہا کہ پوائنٹس کے اعتبار سے یہ یومیہ بنیادوں پر سب سے زیادہ اضافے پر کاروبار بند ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔

۔

قبل ازیں اسٹاک ایکسچینج میں 5 فیصد اضافے کے بعد ٹریڈنگ ایک گھنٹے کے لیے روک دی گئی تھی اور مارکیٹ دوبارہ دوپہر 12 بج کر 31 منٹ پر کھولی گئی۔

نوٹس کے مطابق تمام ٹی آر ای سرٹیفکیٹ ہولڈرز کو مطلع کیا گیا کہ کے ایس ای 30 انڈیکس میں گزشتہ تجارتی روز کے اختتام کے مقابلے میں 5 فیصد اضافہ ہونے کے باعث پی ایس ایکس کے ضوابط کے تحت مارکیٹ ہالٹ کا نفاذ کیا گیا ہے اور تمام ایکوٹی اور ایکوٹی سے منسلک مارکیٹیں معطل کردی گئی ہیں۔

اہم شعبوں میں بھرپور خریداری دیکھی گئی جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، کمرشل بینکس، آئل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز)، بجلی پیدا کرنے اور ریفائنری کے شعبے شامل ہیں۔ حبکو، اے آر ایل، ایس ایس جی سی، پی ایس او، ایم اے آر آئی، او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی او ایل، یو بی ایل اور ایچ بی ایل مثبت زون میں ٹریڈ کرتے نظر آئے۔

عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کی ہیڈ آف ریسرچ ثناء توفیق نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا کہ جنگ بندی کے اعلان اور بین الاقوامی منڈی میں 3 سے 4 فیصد تیل کی قیمتوں میں کمی نے اسٹاک مارکیٹ میں خریداری کی ریلی کو تقویت دی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مارکیٹ کا خیال ہے کہ اب جیوپولیٹیکل صورتحال قابو میں آ جائے گی۔

یاد رہے کہ پیر کو اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھی گئی جب امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد جغرافیائی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 3,855.77 پوائنٹس یا 3.21 فیصد کی کمی سے 116,167.47 کی سطح پر بند ہوا۔

بین الاقوامی سطح پر منگل کو عالمی شیئر مارکیٹس میں تیزی دیکھنے میں آئی جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری رہا۔ اس پیشرفت کے باعث تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی کیونکہ فراہمی میں خلل کے خدشات کم ہوگئے۔

اگرچہ ایک ایرانی عہدیدار نے پہلے تصدیق کی تھی کہ تہران نے جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے لیکن ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جب تک اسرائیل اپنے حملے نہیں روکتا، تب تک جنگ کا خاتمہ نہیں ہوگا۔

تیل کی قیمتیں منگل کو 3 فیصد سے زائد گرگئیں جب کہ پیر کو پہلے ہی 9 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی تھی، جب ایران نے امریکی اڈے پر علامتی جوابی کارروائی کی تھی، جو بے اثر ثابت ہوئی اور اس بات کا اشارہ تھا کہ فی الحال ایران مزید کارروائی نہیں کرے گا۔

آبنائے ہرمز جیسے اہم شپنگ روٹ کو لاحق فوری خطرہ ختم ہوتا دکھائی دینے کے بعد امریکی کروڈ فیوچرز مزید 3.4 فیصد کمی کے ساتھ 66.15 ڈالر فی بیرل پر آگیا جو 11 جون کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔

دوسری جانب رسک اثاثوں میں تیزی دیکھنے میں آئی —ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.6 فیصد اور نیسڈیک فیوچرز میں 0.9 فیصد اضافہ ہوا۔

یورپ میں بھی مثبت رجحان دیکھا گیا:یورو اسٹاکس 50 فیوچرز 1.3 فیصد بڑھے جبکہ ایف ٹی ایس ای فیوچرز میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا۔

ایشیائی مارکیٹس میں ایم ایس سی آئی کا جاپان کے سوا ایشیا پیسیفک شیئرز کا سب سے بڑا انڈیکس 1.8 فیصد اوپر گیا جبکہ جاپان کا نیکی انڈیکس 1.4 فیصد بڑھا۔

یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے

Comments

Comments are closed.