BR100 Decreased By (-0.24%)
BR30 Increased By (0.03%)
KSE100 Decreased By (-0.14%)
KSE30 Decreased By (-0.29%)
BAFL 57.80 Decreased By ▼ -0.36 (-0.62%)
BIPL 27.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 34.63 Increased By ▲ 0.23 (0.67%)
CNERGY 13.62 Increased By ▲ 0.51 (3.89%)
DFML 18.41 Increased By ▲ 0.01 (0.05%)
DGKC 215.57 Increased By ▲ 1.91 (0.89%)
FABL 99.50 Decreased By ▼ -0.06 (-0.06%)
FCCL 57.45 Decreased By ▼ -0.61 (-1.05%)
FFL 16.42 Increased By ▲ 0.19 (1.17%)
GGL 24.03 Increased By ▲ 0.05 (0.21%)
HBL 333.30 Decreased By ▼ -4.86 (-1.44%)
HUBC 213.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.17%)
HUMNL 10.59 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
KEL 7.40 Decreased By ▼ -0.03 (-0.4%)
LOTCHEM 27.53 Decreased By ▼ -0.14 (-0.51%)
MLCF 101.99 Decreased By ▼ -0.76 (-0.74%)
OGDC 318.85 Decreased By ▼ -0.07 (-0.02%)
PAEL 42.87 Decreased By ▼ -0.23 (-0.53%)
PIBTL 16.68 Increased By ▲ 0.05 (0.3%)
PIOC 274.60 Increased By ▲ 1.60 (0.59%)
PPL 230.60 Increased By ▲ 1.15 (0.5%)
PRL 76.01 Increased By ▲ 5.21 (7.36%)
SNGP 103.00 Decreased By ▼ -1.58 (-1.51%)
SSGC 27.15 Decreased By ▼ -0.26 (-0.95%)
TELE 8.54 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
TPLP 15.68 Decreased By ▼ -0.08 (-0.51%)
TRG 59.85 Decreased By ▼ -0.44 (-0.73%)
UNITY 11.48 Decreased By ▼ -0.24 (-2.05%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.01 (0.83%)

یورپی کمیشن نے پاکستان سے غیر ایندھن ایتھانول کی درآمدات پر دی گئی ٹیرف ترجیحات ختم کر دی ہیں۔ یہ اقدام یورپی ایتھانول ساز اداروں کی شکایات کے جواب میں کیا گیا ہے، جن کا کہنا تھا کہ ایشیائی ملک سے سستی درآمدات کے سیلاب نے قیمتوں کو دباؤ میں ڈال دیا ہے اور مارکیٹ کے توازن کو متاثر کیا ہے۔

یورپی کمیشن نے جمعہ کو یورپی یونین کے سرکاری جریدے میں شائع کردہ اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ گزشتہ سال پاکستان سے ایتھانول کی درآمدات تمام غیر ایندھن ایتھانول درآمدات کا ایک چوتھائی سے زائد تھیں، جس کے باعث پاکستان یورپی یونین کا سب سے بڑا برآمد کنندہ بن گیا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ یورپی یونین میں غیر ایندھن ایتھانول کی مجموعی درآمدات میں کئی برسوں سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2024 کے درمیان یہ درآمدات تقریباً دوگنا ہو کر 726,000 میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں، جو 2021 میں 376,000 ٹن تھیں۔

اس میں پاکستان سے درآمد ہونے والا ایتھانول 2021 سے 2022 کے دوران تقریباً 300 فیصد بڑھ کر 393,590 ٹن تک جا پہنچا اور 2023 میں بھی یہ حجم 2021 کے مقابلے میں 244 فیصد زیادہ رہا۔

دوسری جانب یورپی یونین میں غیر ایندھن ایتھانول کی مقامی پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔ گزشتہ سال یہ پیداوار 2021 کے مقابلے میں 8 فیصد کم رہی۔

کمیشن نے کہا کہ دستیاب معلومات اور اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان سے درآمدات میں اضافے اور یورپی یونین کی منڈی میں شدید خلل کا ایک ہی وقت میں وقوع پذیر ہونے کا اتفاق پایا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کمیشن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ غیر ایندھن ایتھانول کی یورپی منڈی میں ایک سنگین خلل کے شواہد موجود ہیں، جس کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں کہ یورپی پیدا کنندگان کے مقابلے میں کہیں کم قیمت پر درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یونین کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔

یورپی یونین میں ایتھانول تیار کرنے والے اداروں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا، جو دو سال کے لیے نافذ العمل ہوگا، اگرچہ وہ اس اقدام کی مدت تین سال چاہتے تھے۔ ان اداروں نے یہ بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ چونکہ یہ پابندی ایندھن میں استعمال ہونے والے ایتھانول پر لاگو نہیں ہوتی، اس لیے اس سے بچنے کے لئے ٹال مٹول سے کام لیا جاسکتا ہے۔

Comments

Comments are closed.