BR100 Decreased By (-0.33%)
BR30 Increased By (0.07%)
KSE100 Decreased By (-0.34%)
KSE30 Decreased By (-0.38%)
BAFL 59.40 Decreased By ▼ -0.44 (-0.74%)
BIPL 27.19 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 34.98 Decreased By ▼ -0.30 (-0.85%)
CNERGY 13.38 Increased By ▲ 0.25 (1.9%)
DFML 18.66 Increased By ▲ 0.58 (3.21%)
DGKC 215.05 Decreased By ▼ -1.96 (-0.9%)
FABL 99.98 Increased By ▲ 0.03 (0.03%)
FCCL 57.80 Decreased By ▼ -0.17 (-0.29%)
FFL 16.33 Decreased By ▼ -0.09 (-0.55%)
GGL 24.30 Decreased By ▼ -0.06 (-0.25%)
HBL 324.01 Decreased By ▼ -2.20 (-0.67%)
HUBC 211.10 Decreased By ▼ -2.32 (-1.09%)
HUMNL 10.80 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
KEL 7.65 Increased By ▲ 0.17 (2.27%)
LOTCHEM 27.99 Increased By ▲ 0.24 (0.86%)
MLCF 101.40 Decreased By ▼ -1.58 (-1.53%)
OGDC 324.00 Increased By ▲ 0.22 (0.07%)
PAEL 43.91 Increased By ▲ 0.01 (0.02%)
PIBTL 16.65 Decreased By ▼ -0.03 (-0.18%)
PIOC 274.90 Decreased By ▼ -1.29 (-0.47%)
PPL 231.10 Increased By ▲ 1.63 (0.71%)
PRL 71.82 Increased By ▲ 1.71 (2.44%)
SNGP 103.90 Increased By ▲ 0.24 (0.23%)
SSGC 27.20 Increased By ▲ 0.09 (0.33%)
TELE 8.71 Decreased By ▼ -0.01 (-0.11%)
TPLP 15.47 Decreased By ▼ -0.21 (-1.34%)
TRG 61.00 Decreased By ▼ -0.13 (-0.21%)
UNITY 12.41 Increased By ▲ 0.37 (3.07%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)

وائٹ ہاؤس کی جانب سے اسرائیل-ایران تنازع میں امریکی شمولیت کے فیصلے کو مؤخر کرنے کے بعد برینٹ کروڈ کی قیمتوں نے گزشتہ سیشن کے فوائد کھودیے اور جمعہ کو تقریباً 2 ڈالر کی کمی کے ساتھ نیچے آگئیں تاہم اس کے باوجود قیمتیں مسلسل تیسرے ہفتے اضافے کے راستے پر برقرار ہیں۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 1.89 ڈالر یا 2.4 فیصد کی کمی سے 76.96 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔

ہفتہ وار بنیاد پر ان میں 3.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ، جو جولائی کے لیے ہے اور جمعرات کو امریکی تعطیل کے باعث سیٹل نہیں ہوا اور جمعہ کو میعاد ختم ہورہی ہے 53 سینٹ یا 0.7 فیصد اضافے سے75.67 ڈالر پر پہنچ گیا۔

مزید مائع تصور کیا جانے والا اگست کے لیے ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 0.2 فیصد یا 17 سینٹ کے اضافے کے ساتھ 73.67 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔

جمعرات کو قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب اسرائیل نے ایران میں جوہری اہداف پر بمباری کی اور ایران نے ایک اسرائیلی اسپتال کو نشانہ بنانے کے بعد میزائل اور ڈرونز کے ذریعے اسرائیل پر جوابی حملے کیے۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک ہفتے سے جاری جنگ میں کسی بھی جانب سے پسپائی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ وائٹ ہاؤس کے اس بیان کے بعد کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ دو ہفتوں میں یہ فیصلہ کریں گے کہ امریکہ اسرائیل-ایران تنازع میں شامل ہوگا یا نہیں، برینٹ فیوچرز نے گزشتہ سیشن کے کچھ فوائد کھودیے۔

دی پرائس فیوچرز گروپ کے تجزیہ کار فل فلین نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اُس وقت تیزی آئی جب امریکہ کی ممکنہ مداخلت کے خدشات نے اسرائیل اور ایران کے تنازع کو مزید بڑھنے کا اندیشہ پیدا کر دیا۔ بعد ازاں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے اشارہ دیا کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے ابھی وقت باقی ہے۔

ایران تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کے رکن ممالک میں تیسرا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے جو روزانہ تقریباً 33 لاکھ بیرل خام تیل نکالتا ہے۔

ایران کے جنوبی ساحل کے ساتھ واقع آبنائے ہرمز سے روزانہ تقریباً 1.8 کروڑ سے 2.1 کروڑ بیرل تیل اور تیل کی مصنوعات گزرتی ہیں، اور اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ جاری لڑائی ان تجارتی راستوں میں خلل ڈال سکتی ہے جس سے سپلائی کو بڑا دھچکا لگے گا۔

آئی جی کے تجزیہ کار ٹونی سائکومور نے کہا کہ دو ہفتوں کی ڈیڈ لائن وہ حربہ ہے جسے ٹرمپ نے ماضی میں کئی اہم فیصلوں میں استعمال کیا ہے، اکثر اوقات یہ مہلت بغیر کسی ٹھوس کارروائی کے ختم ہوجاتی ہے جس کی صورت میں خام تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہ سکتی ہیں اور حالیہ اضافے کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

Comments

Comments are closed.