پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ 2025 کے بعد قربانی کے جانوروں کی کھالوں کی مجموعی تعداد 74 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ سال کے 73 لاکھ کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہے۔
ایسوسی ایشن نے کھالوں کے ضیاع میں کمی کو اس اضافے کی ایک اہم وجہ قرار دیا، تاہم موجودہ معاشی حالات، خریداروں کی قوت خرید میں کمی اور جانوروں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں اس اضافے کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔
پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن (پی ٹی اے) کے مطابق اس سال قربانی کے جانوروں کی تقریباً 5 فیصد کھالیں ضائع ہوئیں، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 10 سے 15 فیصد کے درمیان تھی۔

پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن (پی ٹی اے) کے تخمینے کے مطابق اس سال قربانی کے جانوروں کی کھالوں کی مجموعی تعداد 74 لاکھ سے تجاوز کر گئی جو گزشتہ سال کے 73 لاکھ کے مقابلے میں 1.4 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
ایسوسی ایشن کے تخمینے کے مطابق، جمع کی گئی 74 لاکھ سے زائد کھالوں کی مجموعی مالیت تقریباً 7.5 ارب روپے بنتی ہے۔ ایک گائے کی کھال کی اوسط قیمت 1,775 روپے لگائی گئی ہے، جبکہ دیگر کھالوں کی قیمتیں درج ذیل ہیں: بکری 446 روپے، بھیڑ 47 روپے، اونٹ 578 روپے، اور بھینس کی کھال 1,680 روپے فی عدد۔
پاکستان میں یہ کھالیں چمڑا سازی کی صنعت میں وسیع پیمانے پر استعمال کی جاتی ہیں، جن سے ملبوسات، جوتے، بیگ اور دیگر اشیائے ضرورت تیار کی جاتی ہیں۔






















Comments
Comments are closed.