پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے امریکی ہاؤس آف ریپریزنٹیٹیوز کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ برائن ماسٹ اور رینکنگ ممبر گریگوری میکس سے ملاقات کی، جہاں علاقائی امن، جنوبی ایشیا کے حالیہ بحران اور پاکستان-امریکہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع زیر غور آئے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کمیٹی کو بھارت کی حالیہ اشتعال انگیزیوں اور نہتے شہریوں پر کیے جانے والے فوجی حملوں پر تفصیلی بریفنگ دی اور خبردار کیا کہ یہ بڑھتا ہوا تنازعہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے انڈس واٹرز ٹریٹی کی یکطرفہ معطلی کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے پاکستان کے لاکھوں شہریوں کا معاشی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے اور یہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی ایک نہایت خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔
انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی سنگین انسانی صورتحال کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستان کے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام کو ان کا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حقِ خود ارادیت ہر صورت میں دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں امریکہ کے ماضی کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان سفارتی ذرائع کے ذریعے امن کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
وفد نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعاون کے فروغ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی کے ارکان نے وفد کے مؤقف اور تجاویز کو سراہا اور پاکستان کے عوام اور حکومت کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔
دریں اثناء، پاکستانی وفد نے امریکی انڈر سیکرٹری آف اسٹیٹ برائے سیاسی امور ایلیسن ہوکر سے ایک تعمیری ملاقات کی۔
وفد کے ارکان نے پاکستان-بھارت سیزفائر کے قیام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کے کردار کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرے گی۔
وفد نے بھارت کی بلااشتعال جارحیت، مسلسل اشتعال انگیز بیانات اور انڈس واٹرز ٹریٹی کی غیرقانونی معطلی پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025
























Comments
Comments are closed.