اسٹارٹ اپ نیم کی لاجسٹکس میں انٹری، لیپرڈز کورئیر کے ساتھ شراکت داری
- نیم کے شریک بانی کا کہنا ہے کہ دستی اور تاخیر سے ہونے والی ادائیگیاں طویل عرصے سے لاجسٹکس کمپنیوں اور ان کے مرچنٹ شراکت داروں کے لیے مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہیں۔
نیم (Neem)، جو گزشتہ ماہ انشورنس سیکٹر میں قدم رکھ چکا ہے، اب لاجسٹکس کے شعبے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس نے ملک کے بڑے کورئیر و لاجسٹکس گروپ، لیپرڈز کورئیر سروسز کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔
اس اسٹارٹ اپ نے عالمی اور مقامی سرمایہ کاروں سے 40 لاکھ ڈالر سے زائد کی سیڈ فنڈنگ حاصل کی ہے۔ کمپنی نے منگل کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ نیم لیپرڈز کے وسیع مرچنٹ نیٹ ورک میں مالیاتی بہاؤ کو ڈیجیٹل اور موثر بنانے کے لیے اپنا فلیگ شپ ’والٹ انفراسٹرکچر‘ فراہم کرے گا۔
اس شراکت کے تحت نیم، لیپرڈز کے لیے ایک وائٹ لیبلڈ والٹ ایپ تیار کرے گا، جو مکمل طور پر لیپرڈز کے برانڈ کے ساتھ ہوگی، اور ملک بھر کے مرچنٹس کو ادائیگیاں وصول کرنے، بیلنس منیج کرنے اور رقم نکالنے کی سہولت فراہم کرے گی۔
لیپرڈز کے نائب صدر کمرشل، زاہد علی کھوسہ نے کہا: نیم کے ساتھ ہماری شراکت داری مرچنٹس کے لیے ایک تیز، ہوشیار اور مکمل ڈیجیٹل تجربہ ممکن بناتی ہے، جو پاکستان میں لاجسٹکس اور فنٹیک کی ترقی میں ہماری قیادت کو مضبوط بناتی ہے۔“
لاجسٹکس پاکستان کی تجارت کی ریڑھ کی ہڈی ہے
بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے نیم کے شریک بانی، ندیم شیخ نے کہا کہ پاکستان میں لاجسٹکس کا شعبہ تجارت کی ریڑھ کی ہڈی ہے — جو کاروبار کو توانائی فراہم کرتا ہے، ای کامرس کو ممکن بناتا ہے اور شہری و دیہی علاقوں میں سپلائی چینز کو جوڑتا ہے۔ یہ شعبہ لاکھوں افراد کو روزگار دیتا ہے، جن میں ڈلیوری ایجنٹس، ڈرائیورز اور ویئرہاؤس کے عملے شامل ہیں — جن کی اکثریت مالی لحاظ سے محرومی کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ روایتی، تاخیر سے ہونے والی ادائیگیاں لاجسٹکس کمپنیوں اور ان کے مرچنٹ پارٹنرز کے درمیان مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ مرچنٹس اپنی آمدنی تک بروقت رسائی پر انحصار کرتے ہیں تاکہ کیش فلو منظم رکھ سکیں، اسٹاک دوبارہ بھر سکیں، اور اپنے کاروبار کو بڑھا سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر لاجسٹکس نیٹ ورکس میں مالی خدمات کو ضم کیا جائے — جیسے ڈیجیٹل ادائیگیاں اور تنخواہوں کی فوری ادائیگی — تو بڑے پیمانے پر مالی شمولیت کو فروغ دینے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ شراکت داری ایسے شعبے میں ایک بنیادی تبدیلی کا سبب بنے گی جو تیزی اور بھروسا پر قائم ہے۔
ندیم شیخ کے مطابق، اگرچہ نیم کا ابتدائی فوکس مرچنٹ سیٹلمنٹس پر ہے، مگر وہ لاجسٹکس میں کئی دیگر اعلیٰ اثر رکھنے والے فنٹیک استعمالات پر بھی لیپرڈز کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
ان میں شامل ہیں: ڈلیوری کے وقت کیو آر کوڈز یا پیمنٹ لنکس کے ذریعے ڈیجیٹل کلیکشن، لاجسٹکس ملازمین اور ڈلیوری رائیڈرز کو تنخواہوں کی ادائیگی، لاجسٹکس پلیٹ فارم کے اندر وینڈر کی ادائیگیاں، فرنٹ لائن ورکرز کے لیے ارند ویج ایکسیس، کیش آن ڈیلیوری اور ڈلیوری فنانسنگ کے ذریعے ورکنگ کیپیٹل کے مسائل کا حل۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک ممکنہ فیوچر فیچر یہ ہوگا کہ صارفین کے لیے فوری ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ کیش آن ڈیلیوری پر عدم اعتماد کو ختم کیا جا سکے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ نیم نے ای ایف یو لائف کے ساتھ ایک اسٹریٹجک شراکت داری کا اعلان بھی کیا تھا۔
نیوم اس وقت اپنے ادائیگی کے حل اور ارند ویج ایکسیس پراڈکٹس کے ساتھ صحت (صحت کہانی)، لاجسٹکس (اسمارٹ لین، ٹی سی ایس)، موبلٹی (ایز بائیک)، زراعت (باخبر کسان، فارم ٹو ہوم)، تعلیم (ایڈکاسا)، ریٹیل (ثنا سفیناز، یونین فیبرکس)، لائف اسٹائل (دوام، پیڈل ورس،)، ای کامرس ( بیچلو ڈاٹ پی کے، فینریر، ای کام ڈیلز) جیسے اہم شعبوں میں سرگرم ہے۔






















Comments
Comments are closed.