وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے پاکستان-ترکمانستان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے کی حکمت عملی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ علاقائی رابطے اور معاشی انضمام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو گا۔
یہ بات انہوں نے ہفتہ کے روز ترکمانستان میں تعینات ہونے والی نئی سفیر ڈاکٹر فریال لغاری سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں دونوں نے اقتصادی، تجارتی، تعلیمی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ترکمانستان کی افغانستان کے ساتھ قربت پاکستان کو وسطی ایشیا سے ملانے والا سب سے قریب ترین دروازہ بناتی ہے، اور اس جغرافیہ کو بروئے کار لا کر غیر معمولی اقتصادی راہداریاں قائم کی جا سکتی ہیں۔
ڈاکٹر فریال لغاری نے بتایا کہ ان کی تحقیق کا مرکز آکسفورڈ یونیورسٹی میں سیاسی جغرافیہ رہا ہے جو سفارتی چیلنجوں کو سمجھنے میں معاون ہوگا۔ وفاقی وزیر نے ان کی قابلیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ مہارت علاقائی رابطہ کاری سے متعلق فیصلوں میں مددگار ثابت ہوگی۔
ملاقات میں پاکستان کی ترکمانستان کو برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا گیا، کیونکہ موجودہ برآمدات درآمدات کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ اس سلسلے میں لاجسٹک مسائل کو حل کرنے پر زور دیا گیا۔
دونوں جانب سے مشترکہ بزنس ایکسپو کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ کاروباری افراد اور سرمایہ کاروں کو براہِ راست روابط کا موقع ملے۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کے ماربل کو ترکمانستان کے لیے ایک بڑی برآمدی ممکنہ شے قرار دیا اور کہا کہ اشک آباد میں ماربل کا خوبصورت استعمال دیکھا گیا ہے، جو اگر پاکستان سے درآمد ہو تو معیار اور قیمت دونوں میں فائدہ مند ہو گا۔
انہوں نے آم، چاول، پھل اور سبزیوں سمیت دیگر مصنوعات کی برآمد کے لیے براہِ راست فضائی رابطے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر فریال لغاری نے بھی فضائی کارگو سروس کے ذریعے آم کی برآمد کی اہمیت کو تسلیم کیا۔
وفاقی وزیر نے تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ یہ منصوبہ وسطی ایشیا کو یورپ سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دونوں نے انسانی سرمائے کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے طلبا کے تبادلے اور آئی ٹی تعاون پر اتفاق کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان دنیا کی چوتھی بڑی فری لانسنگ قوم ہے اور ترکمانستان کو ڈیجیٹل سکلز فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
آخر میں وفاقی وزیر نے ترکمانستان کی غیرجانبداری کی 30 ویں سالگرہ کی اہمیت کو اجاگر کیا اور بتایا کہ وزیرِاعظم رواں سال کے اختتام پر ترکمانستان کا دورہ کریں گے، جو اعلیٰ سطحی روابط کے فروغ کا موقع ہوگا۔






















Comments
Comments are closed.