سپریم کورٹ کے 11 رکنی آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں سے متعلق اکثریتی فیصلے پر ریمارکس دیے کہ مذکورہ فیصلہ درحقیقت آئین میں ترمیم کے مترادف ہے، کیونکہ آزاد امیدواروں کو کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کے لیے آئین میں دی گئی 3 دن کی مدت کو 15 دن تک بڑھا دیا گیا۔
بینچ کی سربراہی جسٹس امین الدین خان کر رہے تھے، جبکہ دیگر ججز میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس علی باقر نجفی، جسٹس جمال مندوخیل اور دیگر شامل تھے۔ سماعت کو سپریم کورٹ کے یوٹیوب چینل پر براہ راست نشر کیا گیا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ججوں کو صرف آئین و قانون سے غرض ہونی چاہیے، نہ کہ بیرونی عوامل سے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آئین کو دوبارہ لکھنے کی ایک مثال آرٹیکل 63 اے کے مقدمے میں بھی سامنے آ چکی ہے۔
جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اکثریتی فیصلہ 13 جنوری 2025 کے فیصلے پر انحصار کرتا ہے جس پر نظرثانی کی درخواستیں زیر التوا ہیں۔ جسٹس باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ جج کا حلف اسے اصولوں یا قانون کی بنیاد پر فیصلے دینے کا پابند بناتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں سے متعلق فیصلے پر، ایس آئی سی کے وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ 11 ججز نے قرار دیا کہ یہ امیدوار درحقیقت پی ٹی آئی کے رکن ہیں اور پارٹی مخصوص نشستوں کی حقدار ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو مخصوص نشستیں دینے پر تمام ججز متفق تھے، اختلاف صرف طریقہ کار اور تعداد پر تھا۔ جسٹس مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی آزاد امیدوار کو زبردستی کسی جماعت میں شامل کیا جا سکتا ہے؟
سماعت کے دوران، جسٹس ہلالی نے استفسار کیا کہ اگر ایس آئی سی کے چیئرمین حامد رضا 2013 سے پارٹی کا سربراہ تھے تو انہوں نے آزاد حیثیت سے الیکشن کیوں لڑا؟
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.