سپریم کورٹ نے سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حق میں دیے گئے فیصلے پر نظرثانی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 11 رکنی آئینی بنچ نے پیر کو پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی نظرثانی درخواستوں کی سماعت کی۔ اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ اگر نظرثانی کی اجازت دی گئی تو کون سا فیصلہ نافذ العمل رہے گا؟ کیونکہ اکثریتی فیصلے میں پی ٹی آئی کو محفوظ نشستوں کے لیے اہل قرار دیا گیا تھا، جبکہ عدالت میں پی ٹی آئی نمائندگی نہیں کر رہی تھی۔
عدالت نے نشاندہی کی کہ سنی اتحاد کونسل کی اپیل کا مرکزی مسئلہ خواتین اور غیر مسلموں کے لیے محفوظ نشستیں ہیں، جس پر ابھی فیصلہ باقی ہے۔ عدالت نے بتایا کہ 80 آزاد امیدوار جو سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئے، وہ نہ تو الیکشن کمیشن کے سامنے تھے اور نہ ہی پشاور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں۔
جسٹس امین الدین نے سوال کیا کہ جب کچھ امیدوار اپنے کاغذات میں پی ٹی آئی کا نام درج کر کے جیتے اور بعد میں سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوگئے تو اس صورت میں محفوظ نشستیں کس کو دی جائیں؟ جس پر مؤقف دیا گیا کہ آزاد امیدواروں کا پارٹی میں شامل ہونا وقت کی حد میں تبدیلی کے مترادف ہے جو آئین کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئین کی تشریح کی جا سکتی ہے مگر اسے دوبارہ لکھا نہیں جا سکتا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ پی ٹی آئی انتخابات کے دوران ایک سیاسی جماعت کے طور پر موجود تھی لیکن مخصوص نشان کے تحت حصہ نہیں لیا تھا۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ نشان عام عوام کے لیے ہوتا ہے اور اگر جماعت کو نشان نہ دیا جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے حق سے محروم کیا جائے۔
عدالت نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا معاملہ نہ تو الیکشن کمیشن، نہ ہائی کورٹ اور نہ ہی سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا، لہٰذا محفوظ نشستیں اس جماعت کو کیسے دی جا سکتی ہیں؟ اس صورتحال میں عدالت نے ازخود نوٹس لیا ہے۔
وکلا نے عدالت کو بتایا کہ انتخابی عمل کے دوران متعلقہ افسران نے اپنے فرائض قانونی اور آئینی حدود میں انجام نہیں دیے۔ عدالت نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا وہ ان خامیوں کو نظر انداز کر سکتی ہے؟
یہ سماعت جاری ہے اور عدالت نے آئندہ روز مزید دلائل سننے کا اعلان کیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.