حکومت پاکستان کی جانب سے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں نئے ٹیکس لگائے جانے کا امکان ہے جن میں فری لانسرز، وی لاگرز اور یوٹیوبرز کی آمدنی پر ٹیکس بھی شامل ہے۔ یہ اقدام تقریباً 500 سے 600 ارب روپے کا اضافی ٹیکس جمع کرنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ یہ بات جمعرات کو جاری کردہ ایک تحقیقی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔
مالی سال 26 کیلئے پاکستان کے وفاقی بجٹ کے جائزے کے عنوان سے جاری ہونے والی ٹاپ لائن ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق حکومت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے 14.1 سے 14.3 ٹریلین روپے کا ریونیو ہدف مقرر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 16-18 فیصد زیادہ ہوگا۔
اس متوقع 16 سے 18 فیصد اضافے میں سے 12 فیصد خودکار معاشی ترقی کے ذریعے حاصل ہوگا جو کہ 3.6 فیصد جی ڈی پی اور 7.7 فیصد مہنگائی کی وجہ سے ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق باقی 4 سے 5 فیصد ٹیکس آمدنی کا مطلب ہے کہ حکومت کو 500 سے 600 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے ہوں گے۔
مالی سال 2025-26 کا بجٹ 2 جون 2025 کو پیش کیا جائے گا۔
مختلف اداروں نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ یوٹیوب، ٹک ٹاک جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہونے والی آمدنی پر ٹیکس لگائے۔آئی سی ایم اے پی (انسٹیٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان) نے تجویز دی ہے کہ سوشل میڈیا آمدنی پر 3.5 فیصد ٹیکس لگایا جائے۔ رپورٹ کے مطابق، اس اقدام سے حکومت کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے تقریباً 52.5 ارب روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہونے کی توقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق حکومت پنشنرز پر بھی ٹیکس لگانے پر غور کر رہی ہے۔ تجویز ہے کہ ایسے افراد جن کی ماہانہ پنشن 4 لاکھ روپے سے زیادہ ہو، ان پر 2.5 سے 5 فیصد کے درمیان ٹیکس عائد کیا جائے۔ میڈیا رپورٹس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حکومت اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔
گزشتہ سال بھی حکومت نے پنشن پر ٹیکس لگانے کی کوشش کی تھی تاہم رپورٹ میں اندازہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں اس بار یہ ٹیکس عائد کر دیا جائے گا جس سے حکومت کو 20 سے 40 ارب روپے کی اضافی آمدنی ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 کے پہلے 9 ماہ میں حکومت 673 ارب روپے پنشن پر خرچ کر چکی ہے جو سال بھر میں تقریباً 0.9 سے 1 ٹریلین روپے تک پہنچ سکتا ہے۔
محکمہ شماریات نے پہلے ہی ایک قدم اٹھایا ہے جس کے تحت کچھ اشیاء پر جی ایس ٹی (سیلز ٹیکس) کا تعین محکمے کی مقررہ قیمتوں کے مطابق کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر چینی پر جی ایس ٹی 72.22 روپے فی کلو کی بنیاد پر لگایا جا رہا تھا جبکہ مارکیٹ میں قیمت 150 روپے فی کلو تک پہنچ چکی تھی۔ اس بنیاد کو تبدیل کرنے سے حکومت کو 70 سے 80 ارب روپے سالانہ اضافی آمدنی ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ یہ تبدیلی مالی سال 2025-26 کے فنانس بل میں شامل کی جائے گی۔
مزید یہ کہ الٹرا پراسیسڈ فوڈ آئٹمز (جیسے کہ بسکٹس، سنیکس وغیرہ) پر ہیلتھ ٹیکس لگانے کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ اس کا مقصد عوام میں صحت سے متعلق آگاہی پیدا کرنا اور موٹاپا، ٹائپ 2 ذیابیطس، فالج، دانتوں کی بیماریوں، دل کی بیماریوں اور ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض کی روک تھام کرنا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں حکومت ان اشیاء پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 20 فیصد اضافہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ مالی سال 2028-29 تک یہ شرح 50 فیصد تک پہنچ جائے۔
رپورٹ میں یہ بھی توقع ظاہر کی گئی ہے کہ حکومت یہ ٹیکس صرف پراسیسڈ فوڈز پر ہی نہیں بلکہ سگریٹ پر بھی مزید بڑھائے گی۔
اس کے علاوہ، حکومت نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ نان فائلر کیٹیگری ختم کر رہی ہے۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ میں ایک بل بھی پیش کر دیا گیا ہے۔ اگر یہ بل منظور ہو گیا تو نان فائلرز کو گاڑیوں اور جائیداد کی خریداری جیسے اہم معاشی لین دین سے روک دیا جائے گا۔
بل کو سینیٹ کمیٹی میں زیر بحث لایا گیا ہے تاہم اس کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے ایف بی آر کے نظام میں کچھ تکنیکی تبدیلیاں ضروری ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ سیکشن 114سی کو بجٹ میں متعارف کرایا جائے گا تاہم بحث کے بعد اس کے نفاذ کے پہلے سال میں تھریشولڈ کی سطح یا کچھ نرمی ممکن ہو سکتی ہے۔
ٹاپ لائن ریسرچ کے مطاق حکومت نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا ہے کہ وہ فرنس آئل پر بھی پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی لگانے پر غور کر رہی ہے جو پہلے ہی پٹرول اور ڈیزل پر وصول کی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ حکومت پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں 5 روپے فی لیٹر کا اضافہ کرنے کا منصوبہ بھی رکھتی ہے جسے کاربن ٹیکس کے طور پر دو سالوں میں بتدریج نافذ کیا جائے گا۔
ریسرچ کے مطابق اگر یہ نافذ کیا جاتا ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت فرنس آئل کی فروخت پر پی ڈی ایل سے اضافی 35 سے 80 ارب روپے جمع کر سکتی ہے بشرطیکہ GST میں کوئی تبدیلی نہ ہو اور پی ڈی ایل کی شرح 40 سے 78 روپے فی لیٹر ہو۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نے مالی سال 26 کی پہلی ششماہی (دسمبر 2025 تک) میں ہزاروں دکانداروں سے 295 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے اور اسے انڈیکیٹو ٹارگٹ کے طور پر شامل کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت ڈسٹری بیوٹرز پر ایڈوانس ٹیکس میں اضافے جیسے اقدامات کرے گی تاکہ آئی ایم ایف کی شرط کو پورا کیا جا سکے۔
اکتوبر 2024 میں آئی ایم ایف کی رپورٹ میں پاکستان کے لیے کچھ ٹیکس اقدامات کا ذکر کیا گیا تھا جن میں کھاد اور کیڑے مار ادویات پر ایف ای ڈی میں 5 فیصد اضافہ شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس اقدام سے حکومت اضافی 30 ارب روپے جمع کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہماری رائے میں، دونوں مصنوعات پر ایف ای ڈی میں اضافے کا امکان زیادہ ہے کیونکہ یہ آئی ایم ایف کی شرط ہے۔
رپورٹ کے مطابق دیگر ٹیکس اقدامات میں باقی مصنوعات پر کم جی ایس ٹی کی شرح کو ختم کرنا زیادہ ممکن ہے، فاٹا/پاٹا کے علاقے کے لیے استثنیٰ کو ختم کرنا ممکن ہے، زراعت کی آمدنی پر ٹیکس کے نفاذ کا امکان ہے جو صوبائی حکومتیں نافذ کریں گی، اور لگژری اشیاء جیسے موبائل فونز، جواہرات، آلات، طیارے، جہاز، سگریٹ، اور کاسمیٹکس پر جی ایس ٹی میں اضافہ بھی بجٹ میں متوقع ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ حکومت ملازمین اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو ٹیکس میں ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے، گاڑیوں کی درآمد پر ڈیوٹیز میں کمی یا عمر کی حد کو 3 سال سے 5 سال تک بڑھانے کا امکان ہے جبکہ اور ہاؤسنگ فنانس پر سبسڈی کا اعلان بھی کیا جا سکتا ہے۔






















Comments
Comments are closed.