BR100 Decreased By (-0.02%)
BR30 Decreased By (-0.26%)
KSE100 Decreased By (-0.01%)
KSE30 Decreased By (-0.02%)
BAFL 57.04 Increased By ▲ 0.17 (0.3%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.33 Decreased By ▼ -0.02 (-0.07%)
CNERGY 13.13 Increased By ▲ 0.01 (0.08%)
DFML 16.66 Increased By ▲ 0.76 (4.78%)
DGKC 192.20 Decreased By ▼ -0.25 (-0.13%)
FABL 94.39 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
FCCL 52.78 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
FFL 14.71 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
GGL 19.37 Decreased By ▼ -0.19 (-0.97%)
HBL 306.89 Increased By ▲ 0.79 (0.26%)
HUBC 201.05 Decreased By ▼ -0.37 (-0.18%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.52 Increased By ▲ 0.06 (0.23%)
MLCF 93.00 Decreased By ▼ -0.16 (-0.17%)
OGDC 315.30 Decreased By ▼ -1.43 (-0.45%)
PAEL 35.60 Decreased By ▼ -0.03 (-0.08%)
PIBTL 14.80 Increased By ▲ 0.12 (0.82%)
PIOC 243.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.09%)
PPL 224.75 Decreased By ▼ -2.16 (-0.95%)
PRL 93.10 Increased By ▲ 0.08 (0.09%)
SNGP 91.99 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
SSGC 23.78 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 7.88 Increased By ▲ 0.08 (1.03%)
TPLP 12.81 Decreased By ▼ -0.16 (-1.23%)
TRG 56.55 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
UNITY 8.09 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)

خیبرپختونخوا کی صنعتوں کی مخالفت کے باوجود، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مالیات نے جمعرات کو حکومت کا بل ’’آف دی گرڈ (کیپٹیو پاور پلانٹس) لیوی بل 2025‘‘ منظور کر لیا۔

کمیٹی کا اجلاس یہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹر انوشہ رحمان کی صدارت میں ہوا۔

یہ بل جمعہ کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم ڈویژن میں بھی پیش کیا جائے گا۔

خیبرپختونخوا سے ممبر کمیٹی محسن عزیز نے اس بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے ’’اینٹی پاکستان‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ بل ان صنعتوں کو بند کرنے کا باعث بنے گا جنہیں ملک میں بجلی کی کمی کے باعث کیپٹیو پاور پلانٹس لگانے کی ترغیب دی گئی تھی۔

کمیٹی کی چیئرپرسن انوشہ رحمان نے سینیٹر محسن عزیز کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مخالفت سستی بجلی کی فراہمی کے خلاف معلوم ہوتی ہے۔

سینیٹر محسن عزیز نے اس تردید کی۔

سینیٹر رحمان نے کہا کہ چونکہ سینیٹر محسن عزیز آن لائن ہیں، اس لیے ان کا ووٹ شمار نہیں کیا جائے گا۔

سینیٹر منظور کاکڑ نے اس بل کی حمایت کرتے ہوئے اسے ’’بہت اچھا‘‘ قرار دیا، اور سینیٹر انوشہ رحمان نے بھی اس بات کی تائید کی اورکہا کہ وزیرِاعظم نے بجلی کی قیمتیں کم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

قبل ازیں، پیٹرولیم سیکرٹری مومن آغا نے کمیٹی کو بل کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس کا مقصد کیپیسٹی یوزیج کے بوجھ کو کم کرنا اور بالآخر عوام کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی لانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آرڈیننس جاری ہونے کے بعد فوری طور پر پانچ فیصد لیوی عائد کی گئی، جو جولائی 2025 سے 10 فیصد، فروری 2026 سے 15 فیصد، اور اگست 2026 سے 20 فیصد ہو جائے گی۔

ایڈیشنل سیکرٹری فنانس نے بتایا کہ کیپٹیو پاور پلانٹس کو ابتدا میں بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا، جس کے باعث کمپنیاں قانونی چارہ جوئی پر مجبور ہوئیں۔

نتیجتاً حکومت نے بندش کے بجائے لیوی عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 5,500 صنعتی کنکشنز میں سے 1,100 کیپٹیو پاور پلانٹس استعمال کر رہے ہیں اور یہ صنعتیں اس وقت معمول کے ٹیرف پر بجلی استعمال کر رہی ہیں۔

پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کیپٹیو پاور پلانٹس کے لیے گیس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، جو فروری 2024 میں 2,750 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سے جون 2024 میں 3,000 روپے اور فروری 2025 میں 3,500 روپے تک پہنچ جائیں گی۔

بدھ کو حکومت نے اس بل کی ایک کاپی سینیٹ اجلاس میں پیش کی، جس کے تحت کیپٹیو پاور پلانٹس پر آف دی گرڈ لیوی عائد کی جائے گی۔

ڈپٹی وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے بطور لیڈر آف دی ہاؤس سینیٹ میں اس بل کو سینیٹ کے 350 ویں اجلاس کے پہلے دن پیش کیا۔ اس کے بعد یہ بل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مالیات و محصولات کو بھیج دیا گیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.