قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے حکومت کے مجوزہ ’’انکم ٹیکس (ترمیمی) بل 2024‘‘ کی منظوری کے عین موقع پر ایوان میں کورم کی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے کارروائی روکوا دی۔ جیسے ہی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں ترمیم کے لیے بل ایوان میں پیش کرنے کی تحریک پیش کی، اپوزیشن ارکان نے زور دار آواز میں ”نہیں“ کا نعرہ لگا کر تحریک کو مسترد کرنے کی کوشش کی، جو کہ ”ہاں“ کے نعروں سے زیادہ بلند تھی۔
قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ، جو اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، نے ایک بار پھر آواز کے ذریعے ووٹنگ کرائی۔ ووٹنگ میں تحریک کو شکست دی گئی، جس پر ڈپٹی اسپیکر نے تحریک کے حق اور مخالفت میں ارکان کی گنتی کا حکم دیا۔
گنتی کے بعد پتہ چلا کہ 67 حکومتی ارکان تحریک کے حق میں اور 32 مخالفت میں تھے، یوں تحریک اکثریت سے منظور کر لی گئی۔
اس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے بل کی شق وار منظوری کی کارروائی شروع کی۔ بل میں کل تین شقیں شامل تھیں، جنہیں ایوان نے منظور کر لیا۔ اب وزیر خزانہ بل کی مجموعی منظوری کے لیے کھڑے ہوئے تو اپوزیشن ارکان نے بل پر اظہارِ خیال کے لیے فلور مانگا۔ ڈپٹی اسپیکر نے پاکستان تحریکِ انصاف کے رکن ملک عامر ڈوگر کو بولنے کی اجازت دی۔
عامر ڈوگر نے کہا کہ کمیٹی کا اتفاق تھا کہ اجلاس میں قانون سازی کے بجائے بھارت-پاکستان کشیدگی اور قومی سلامتی پر بحث کی جائے گی۔ انہوں نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے ایوان میں کورم کی نشاندہی کی۔
ڈپٹی اسپیکر نے دوبارہ گنتی کا حکم دیا، جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ایوان کا کورم مکمل نہیں ہے۔ اس پر ڈپٹی اسپیکر نے کورم پورا ہونے تک اجلاس معطل کر دیا۔ 15 منٹ بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا، تاہم کورم پورا نہ ہوے پر اسپیکر نے اجلاس ملتوی کر دیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.