BR100 Decreased By (-0.81%)
BR30 Decreased By (-1.11%)
KSE100 Decreased By (-0.81%)
KSE30 Decreased By (-0.81%)
BAFL 59.73 Decreased By ▼ -0.11 (-0.18%)
BIPL 27.00 Decreased By ▼ -0.18 (-0.66%)
BOP 34.11 Decreased By ▼ -1.17 (-3.32%)
CNERGY 12.84 Decreased By ▼ -0.29 (-2.21%)
DFML 18.25 Increased By ▲ 0.17 (0.94%)
DGKC 213.02 Decreased By ▼ -3.99 (-1.84%)
FABL 98.99 Decreased By ▼ -0.96 (-0.96%)
FCCL 57.66 Decreased By ▼ -0.31 (-0.53%)
FFL 16.20 Decreased By ▼ -0.22 (-1.34%)
GGL 23.80 Decreased By ▼ -0.56 (-2.3%)
HBL 333.71 Increased By ▲ 7.50 (2.3%)
HUBC 211.43 Decreased By ▼ -1.99 (-0.93%)
HUMNL 10.52 Decreased By ▼ -0.29 (-2.68%)
KEL 7.48 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 27.99 Increased By ▲ 0.24 (0.86%)
MLCF 100.65 Decreased By ▼ -2.33 (-2.26%)
OGDC 320.29 Decreased By ▼ -3.49 (-1.08%)
PAEL 43.12 Decreased By ▼ -0.78 (-1.78%)
PIBTL 16.56 Decreased By ▼ -0.12 (-0.72%)
PIOC 271.73 Decreased By ▼ -4.46 (-1.61%)
PPL 228.84 Decreased By ▼ -0.63 (-0.27%)
PRL 71.02 Increased By ▲ 0.91 (1.3%)
SNGP 102.22 Decreased By ▼ -1.44 (-1.39%)
SSGC 26.68 Decreased By ▼ -0.43 (-1.59%)
TELE 8.61 Decreased By ▼ -0.11 (-1.26%)
TPLP 15.11 Decreased By ▼ -0.57 (-3.64%)
TRG 59.84 Decreased By ▼ -1.29 (-2.11%)
UNITY 12.05 Increased By ▲ 0.01 (0.08%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)

عالمی منڈی میں جمعرات کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 2 ڈالر کی کمی ہوئی جس کی وجہ امریکہ اور ایران کے ممکنہ جوہری معاہدے کی توقعات تھیں کیوں کہ اس سے پابندیوں میں کمی ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ میں خام تیل کے ذخائر میں غیر متوقع اضافے نے بھی سپلائی بڑھنے سے متعلق سرمایہ کاروں کے خدشات میں اضافہ کیا ہے۔

برینٹ کروڈ کے سودے 1.98 ڈالر یا 3 فیصد کمی کے ساتھ 64.11 ڈالر فی بیرل پر طے ہوئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے سودے 2 ڈالر یا 3.2 فیصد کمی کے ساتھ 61.15 ڈالر پر طے ہوئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے بہت قریب ہے اور تہران نے ”کسی حد تک“ شرائط مان لی ہیں۔

ایک ایرانی عہدیدار نے بدھ کو این بی سی نیوز کو انٹرویو میں بتایا کہ ایران اقتصادی پابندیاں ہٹانے کے بدلے امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے پر آمادہ ہے۔

ایس ای بی کے تجزیہ کار اولے ہوالبائے نے کہا کہ جوہری معاہدے کے نتیجے میں اگر فوری طور پر پابندیاں نرم ہو جاتی ہیں تو اس سے ایرانی خام تیل کی 0.8 ملین بیرل یومیہ اضافی فراہمی عالمی منڈی میں آ سکتی ہے — جو قیمتوں کے لیے واضح طور پر منفی پیش رفت ہو گی۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق واشنگٹن نے بدھ کے روز ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل کے پرزے مقامی طور پر تیار کرنے کی کوششوں کو نشانہ بنانے کے لیے نئی پابندیاں عائد کیں۔ یہ اقدام منگل کو لگائی گئی ان پابندیوں کے بعد سامنے آیا جن میں تقریباً 20 کمپنیوں کے اُس نیٹ ورک کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر طویل عرصے سے ایرانی تیل چین بھیج رہا ہے۔

یہ پابندیاں عمان میں امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق چوتھے دور کی بات چیت کے بعد لگائی گئیں، جن کا مقصد جاری تنازعات کو حل کرنا تھا۔

بدھ کو امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (ای آئی اے) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے خام تیل کے ذخائر میں 35 لاکھ بیرل کا اضافہ ہواجس سے مجموعی ذخیرہ 441.8 ملین بیرل تک پہنچ گیا۔ اس کے برعکس، رائٹرز کے ایک پول میں ماہرین نے 11 لاکھ بیرل کمی کی توقع کی تھی۔

دریں اثنا انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے 2025 میں تیل کی طلب میں اضافے کی پیش گوئی کو بڑھا کر 740,000 بیرل یومیہ کر دیا ہے جو پچھلی رپورٹ کے مقابلے میں 20,000 بیرل یومیہ زیادہ ہے۔ ایجنسی نے اس کی وجہ زیادہ معاشی ترقی کی توقعات اور کم تیل کی قیمتوں سے بڑھتی ہوئی کھپت کو قرار دیا ہے۔

ای آئی اے کے مطابق اقتصادی دباؤ اور الیکٹرک گاڑیوں کی ریکارڈ فروخت کی وجہ سے سال کے باقی حصے میں تیل کی طلب میں اضافے کی رفتار کم ہو کر 650,000 بیرل یومیہ رہنے کی توقع ہے جبکہ سال کی پہلی سہ ماہی میں یہ اضافہ تقریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ رہا۔

دوسری جانب تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اور اس کے اتحادی (اوپیک پلس) نے تیل کی فراہمی میں اضافہ جاری رکھا ہے۔ تاہم اوپیک نے بدھ کے روز امریکی اور دیگر غیر اوپیک پلس ممالک کی جانب سے تیل کی فراہمی میں اضافے کی پیش گوئی میں کمی کی ہے۔

Comments

Comments are closed.