کئی برسوں کے مالی بحران کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے مالی سال 2024 میں 9.35 ارب روپے کا آپریشنل اور 26.20 ارب روپے کا خالص منافع (موخر ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کے بعد) حاصل کیا ہے، جو ایک بڑی مالی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
قومی اسمبلی میں ارکان کے سوالات کے تحریری جواب میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی آئی اے کی مالی صورتحال کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کے سالانہ اخراجات 198.8 ارب روپے رہے، جن میں ایندھن (75.58 ارب روپے)، طیاروں کی مرمت (17.48 ارب روپے)، اور لینڈنگ و ہینڈلنگ چارجز (29.42 ارب روپے) سب سے نمایاں تھے۔
تنخواہوں اور اجرتوں پر 17.24 ارب روپے، لیز کرایوں پر 7.9 ارب، فرسودگی پر 12.1 ارب، اور طیاروں کی انشورنس پر 5.4 ارب روپے خرچ ہوئے۔ باقی رقم مسافروں کی خدمات اور دیگر اخراجات پر صرف ہوئی۔
ان اخراجات کے باوجود پی آئی اے کی مالی کارکردگی میں بہتری آئی، اگرچہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ادارے کے مجموعی واجبات اب بھی 187.28 ارب روپے کے قریب ہیں۔
گرینٹ تھورنٹن اور بی ڈی او چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس نے سال کے اختتامی مالیاتی گوشواروں کا آڈٹ کیا۔ پارلیمانی سیکریٹری برائے دفاع زیب جعفر نے بتایا کہ پی آئی اے مارچ 2024 سے منافع میں کام کر رہا ہے۔ انہوں نے سابق وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان کے بیانات کو پی آئی اے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا سبب قرار دیا، تاہم ان کے مطابق اب حالات میں بہتری آ رہی ہے، اور یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی سے کامیاب مذاکرات کے بعد پی آئی اے نے پیرس سمیت یورپ کے لیے پروازیں بحال کر دی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی نئی روٹس پر توسیع حکومت کی ترجیح ہے تاکہ قومی ایئرلائن مستقل منافع بخش بن سکے۔
دوسری جانب پارلیمنٹ لاجز کی خستہ حالی پر ارکانِ اسمبلی نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ اجلاس میں ارکان نے لاجز میں ناقص صفائی، بدنظمی اور احتساب کے فقدان پر آواز بلند کی۔
مختار احمد ملک نے وضاحت کی کہ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) صرف وہ بجٹ اور فیصلے نافذ کرتی ہے جو پارلیمنٹ کی ہاؤس اینڈ لائبریری کمیٹی کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ تاہم، ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے تسلیم کیا کہ سی ڈی اے کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی، اور کئی سینئر افسران کو اس معاملے پر معطل بھی کیا گیا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت 51 ارکانِ قومی اسمبلی کے پاس کوئی سرکاری رہائش نہیں ہے۔ حکومت نے لاجز کی سہولیات کو عارضی بنیادوں پر نجی شعبے کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد طویل مدتی معاہدے پر غور کیا جائے گا۔ ٹینڈرنگ کا عمل منصوبہ بندی ڈویژن کی منظوری کے بعد شروع ہو گا۔
پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما نوید قمر نے اس فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نجی شعبے کے ذریعے سروس معیار بہتر ہو سکتا ہے بغیر کسی اضافی لاگت کے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن نور عالم خان نے سی ڈی اے کے عملے کی مبینہ نااہلی اور سہولیات کے غلط استعمال پر کڑی تنقید کی۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بھی ارکان کے خدشات کی تائید کی اور 2008 سے التوا کا شکار نئے رہائشی بلاکس کی تعمیر پر زور دیا۔
اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی اسپیکر نے اعلان کیا کہ صفائی کی خدمات کو فوری طور پر آؤٹ سورس کیا جائے گا تاکہ ارکان کی شکایات کا کچھ ازالہ ہو سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.