ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز آف پاکستان (آباد) کے چیئرمین حسن بخشی نے کہا ہے کہ صرف پراپرٹی کی لین دین پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کے خاتمے سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی سرگرمیاں بحال نہیں ہوں گی کیوں کہ اس شعبے کو فروغ دینے کیلئے مجموعی ٹیکس بوجھ میں بھی کمی ضروری ہے جو اس وقت 15 فیصد تک ہے۔
”بزنس ریکارڈر“ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں آباد کے چیئرمین نے ان اطلاعات کا خیر مقدم کیا ہے جن کے مطابق حکومت وزیرِ اعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر ایف ای ڈی ختم کرنے کا منصوبہ تشکیل دے رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ٹیکس بوجھ میں کمی کیلئے بھی اقدامات کرے۔
حسین بخشی نے وضاحت کی کہ پراپرٹی ٹرانسفر کے دوران مختلف قسم کے ٹیکسز لگتے ہیں جو اس وقت مجموعی طور پر 15 فیصد تک ہیں اور اس میں 3 سے 7 فیصد تک ایف ای ڈی بھی عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب پراپرٹی ٹرانسفر کی جاتی ہے تو فائلرز کو 13 سے 15 فیصد تک ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے جبکہ نان فائلرز کو 35 فیصد سے 40 فیصد تک ادا کرنا پڑتا ہے۔
نان فائلر اوورسیز پاکستانیوں کو فائلر ٹیکس کی شرح پر پراپرٹی خریدنے کی اجازت ہونی چاہیے۔
رواں برس کے اوائل یعنی فروری میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا تھا کہ حکومت رئیل اسٹیٹ کے ”پلاٹس اور فائلز“ کے کاروبار کی حمایت نہیں کرے گی کیونکہ یہ ایک غیر پائیدار عمل ہے۔ انہوں نے بنیادی اصلاحات کے حکومتی عزم کا اعادہ بھی کیا۔
حسین بخشی نے بتایا کہ ان کی ایسوسی ایشن فائلز کی خریدو فروخت کی حمایت نہیں کرتی۔
حکومت کی جانب سے دیے جانے والے ممکنہ پراپرٹری پیکیج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ٹیکس میں کمی کے بغیر کوئی بھی پیکیج کامیاب نہیں ہوسکتا۔
چیئرمین آباد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اُن اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ٹیکس پالیسیوں میں نرمی کرے جو ملک کے رئیل اسٹیٹ شعبے میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ نان فائلر اوورسیز پاکستانیوں کو فائلر کے ٹیکس ریٹ پر پراپرٹی خریدنے کی اجازت دی جانے چاہئے۔
انہوں نے تجویز دی کہ جب پراپرٹی خرید لی جائے تو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اُن سے این ٹی این (نیشنل ٹیکس نمبر) طلب کرے اور اگر وہ فراہم نہ کریں تو اُنہیں سسٹم میں داخل ہونے کے لیے 15 دن کی مہلت دی جائے — یا سسٹم خودکار طور پر اُنہیں فائلر کے طور پر رجسٹر کر دے۔
دبئی میں پاکستانیوں کی بڑھتی سرمایہ کاری پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس رجحان کی کئی وجوہات ہیں، جن کی تفصیل ذیل میں دی گئی ہے۔
ڈالر اور درہم کی ایک جیسی ہوتی ہے
جائیداد کے دستاویز مکمل ہوتے ہیں
ملکیتی نظام شفاف اور محفوظ ہے
پورا نظام ڈیجیٹل ہے۔
کرنسی کے ریٹ مناسب اور مستحکم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ دبئی میں جائیداد کی منتقلی پر 4 ٹیکس لاگو ہوتا ہے، چاہے سرمایہ کار فائلر ہو یا نان فائلر ہو۔
انہوں نے کہا کہ قانونی تنازعات کی صورت میں دبئی میں عدالتی مقدمات تیزی سے حل ہو جاتے ہیں اور یہ 20 سال تک نہیں چلتے۔
حسین بخشی نے بتایا کہ 10 ملین پاکستانی بیرون ملک ملازمت کرتے ہیں اور اگر حکومت ان کی سہولت فراہم کرے تو اس کا ریئل اسٹیٹ کے شعبے پر مثبت اثر پڑے گا۔
ان کے بقول ریئل اسٹیٹ ایک مربوط صنعت ہے جس میں ایک شعبہ دوسرے کے ساتھ جڑا ہوتا ہے اگر ایک شعبہ ترقی کرتا ہے تو دوسرے شعبے بھی خود بخود تیزی سے آگے بڑھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت متعلقہ صنعتیں 30 سے 50 فیصد کی صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور اگر ان کا حصہ 80 فیصد تک پہنچ جائے تو حکومت اضافی 2 ٹریلین روپے کا ٹیکس وصول کر سکتی ہے۔
متعلقہ صنعتوں پر گفتگو کے دوران انہوں نے حالیہ دنوں میں سیمنٹ کی 50 کلو کی بوری پر 50 روپے کے اضافہ پر اظہار تشویش کیا ہے کیوں کہ مہنگائی اور شرح سود میں کمی واقع ہوئی ہے۔
حسین بخشی نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج تقریباً 300,000 افراد سے جڑا ہوا ہے جس کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 10 ٹریلین روپے ہے جبکہ ریئل اسٹیٹ کا شعبہ ایک ملین افراد کو شامل کرتا ہے اور اس کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 90 ٹریلین روپے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ میں پہلی بار سرمایہ کاری کرنے والوں کو سبسڈائزڈ قرضے پیش کیے جانے چاہئیں اور ان قرضوں کی قسطیں اس پراپرٹی کی کرایہ آمدنی کے برابر ہونی چاہئیں جو خریدی جا رہی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے سبسڈائزڈ قرضوں کی فراہمی سے گھروں کے خواہش مند افراد کے لیے بلڈرز اور ڈویلپرز رہائشی منصوبوں کی فراہمی کا انتظام کر سکتے ہیں۔
کراچی کے رہائشی علاقوں میں بھی بلند و بالا عمارتوں میں رہائش بڑھنے کے رحجان پر انہوں نے جواب دیا کہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ٹیسیر ٹاؤن جیسے مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری گزشتہ 25 سے 30 سالوں سے رکی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت لوگوں کو مختلف منصوبوں میں زمین یا رہائش فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے، نتیجتاً لوگ متبادل رہائش تلاش کرنے پر مجبور ہیں، وعدے کے مطابق حقیقی مالکان کو رہائش یا فلیٹ فراہم نہ کرنا حکومتی ناکامی ہے۔
ای بی اے ڈی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت مختلف سب پروگرام چلائے جا رہے ہیں جس میں بے نظیر کفالت پروگرام، بے نظیر تعلیمی وظائف، بے نظیر انڈرگریجویٹ اسکالرشپ پروگرام اور بے نظیر نشونما پروگرام شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو بے نظیر کفالت پروگرام کے 461 ارب روپے کے بجٹ کا ایک حصہ مختص کرکے بے نظیر ہاؤسنگ سبسڈی پروگرام شروع کرنا چاہئے جس کے تحت لوگوں کو سبسڈائزڈ قرضے فراہم کیے جائیں۔
حسین بخشی نے کہا کہ اگر بے نظیر کفالت پروگرام کے بجٹ کا صرف 10 فیصد مذکورہ ممکنہ پروگرام کیلئے مختص کردیا جائے تو اس سے حکومت پر کوئی اضافی مالی دباؤ نہیں ہوگا اور کئی شہری اپنے گھر کے مالک بن سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بے نظیر ہاؤسنگ پروگرام خاص طور پر پہلی بار گھر خریدنے والوں کے لیے ہو سکتا ہے۔
دریں اثنا پاکستان ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ فورم (پی آر ای آئی ایف) کے صدر شبان الہی نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں ان افراد کو مراعات دی جانی چاہئیں جو ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں چاہے وہ مقامی سرمایہ کار ہوں یا اوورسیز پاکستانی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ شعبہ کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے اور اگر حکومت ٹیکس میں کمی کرے تو ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری بڑھے گی جس سے حکومت کو زیادہ ٹیکس آمدنی حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے ایسی آسان اور بہتر پالیسی بنانی چاہیے جو کم از کم 5 سے 10 سال تک جاری رہے۔
فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے ممکنہ خاتمے کے حوالے سے پاکستان ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ فورم کے صدر نے بھی ان خیالات کا اظہار کیا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر پر دیگر ٹیکس بھی کم کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں زیادہ ٹیکس شرحوں کی وجہ سے مقامی سرمایہ کار بھی ریئل اسٹیٹ میں منافع نہیں دیکھتے، اس کے علاوہ جب سرمایہ کار سرمایہ کاری کرتے ہیں تو ایف بی آر کی جانب سے مختلف نوٹسز موصول ہونا شروع ہو جاتے ہیں جس سے خوف اور مایوسی کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔
اس کے برعکس انہوں نے دبئی کی مثال دی جہاں گزشتہ پانچ سالوں میں مقامی سرمایہ کاروں نے ریئل اسٹیٹ میں بڑی سطح پر سرمایہ کاری کی۔
انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے سرمایہ کاری نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔ اس کی بڑی وجوہات ریئل اسٹیٹ پر زیادہ ٹیکس اور ایف بی آر کی مسلسل پوچھ گچھ ہیں۔
شعبان الہیٰ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ مقامی اور بیرون ملک سرمایہ کاری بڑھانے سے متعلق سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول بنائے۔
حکومت کو ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے ایسی پالیسی نافذ کرنی چاہیے اور واضح ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی مدت کم از کم 5 سے 10 سال تک ہو جس اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گا۔
انہوں نے مزید تجویز دی کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعات 236 سی اور 236 کے (ایڈوانس ٹیکس) کو کم کر کے 1 کر دیا جائے۔ ان شرحوں کو کم کرنے سے خرید و فروخت میں اضافہ ہو گا جو بالآخر حکومت کے لیے فائدہ مند ہوگا، ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
ریئل اسٹیٹ پروفیشنل فورم پاکستان کے صدر عبد الستار شیخ نے گفتگو کے دوران تجویز دی کہ فوری طور پر ایسی ٹاسک فورس بنائی جائے جس میں آباد اور شعبے س وابستہ دیگر پیشہ وار ماہرین بھی شامل ہوں تا کہ ریئل اسٹیٹ کی سرگرمیوں کو بحال کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی ہدایات پر انحصار کرنے کے بجائے حکومت کو آگے بڑھ کر ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو مکمل سپورٹ فراہم کرنی چاہیے۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق سوال پر انہوں نے اُمید کا اظہار کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ چیئرمین آباد اور دیگر ماہرین کی پیش کردہ تجاویز پر عمل کرے۔
ریئل اسٹیٹ کے ماہر عدیل احمد نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سست روی صرف زیادہ ٹیکسوں کی وجہ سے نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ پورا نظام صحیح طریقے سے کام نہیں کر رہا۔
عدیل احمد نے بتایا کہ 60 سے زائد صنعتیں ریئل اسٹیٹ سے وابستہ ہیں، جن میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، سینیٹری ویئر اور دیگر شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت صرف تیسر ٹاؤن اور ہاکس بے جیسے علاقوں، جہاں کئی سالوں سے کام رکا ہوا ہے، سرگرمیاں شروع کردے تو عوام کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور ریئل اسٹیٹ کا کاروبار دوبارہ فروغ پا سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ ریئل اسٹیٹ پر ٹیکسوں کے بارے میں بہت بات ہوتی ہے لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ جائیداد ٹرانسفر ہونے کے دوران کتنے بڑے پیمانے پر رشوت لی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایف ای ڈی کے خاتمے سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کچھ حدتک سرگرمیاں بحال ہوسکتی ہیں تاہم حقیقی ترقی تب ہی ممکن ہوگی جب جائیداد لین دین میں کرپشن اور رشوت کا خاتمہ کیا جائے۔
























Comments
Comments are closed.