وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال کی زیر صدارت بدھ کے روز ”اُڑان پاکستان“ پروگرام کے اہداف سے ہم آہنگ قومی و صوبائی منصوبوں کے جائزے اور ہم آہنگی کے حوالے سے ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف وفاقی و صوبائی وزارتوں کے اعلیٰ حکام، چیف اکانومسٹ پلاننگ کمیشن ڈاکٹر امتیاز احمد، پراجیکٹ ڈائریکٹر اُڑان پاکستان ارما ملک اور ممبران پلاننگ کمیشن نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے منصوبوں کو ”اُڑان پاکستان“ کے اسٹریٹجک اہداف سے ہم آہنگ کریں اور منصوبوں کی نگرانی، رپورٹنگ اور جائزے کے عمل میں فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ”اُڑان پاکستان“ پروگرام کے نفاذ کے اہداف اور کارکردگی کا سہ ماہی بنیادوں پر باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے تاکہ حقیقی پیش رفت کو ممکن بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنایا جائے، لائن منسٹریز میں ”اُڑان پاکستان“ کی جامع تفہیم کو فروغ دیا جائے، پالیسی مداخلتوں کو مقامی سطح پر مؤثر بنانے کے لیے نشاندہی کی جائے، مانیٹرنگ فریم ورک تیار کیا جائے، اور ترجیحی اقدامات کی ایک جامع دستاویز مرتب کی جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ہم نے ”اُڑان پاکستان“ کو مؤثر انداز میں نافذ کرنا ہے تو ہمیں اپنے نظام کی خامیوں کی شناخت کرنا ہوگی اور انہیں دور کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اصل سیکیورٹی اب معیشت سے جڑی ہوئی ہے، جب تک پاکستان اقتصادی طور پر مضبوط نہیں ہوگا، تب تک پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
اپنی ابتدائی گفتگو میں احسن اقبال نے پاک فضائیہ کے بھارتی جارحیت کے خلاف بروقت، جراتمندانہ اور مؤثر ردعمل کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جنگی طیارے محض مشینیں نہیں بلکہ قومی وقار، فخر اور دفاع وطن کے جذبے کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری افواج نے 5 بھارتی طیارے مار گرا کر دنیا کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کو اب دس بار سوچنا ہوگا کہ دوبارہ ایسی کوئی حرکت کرے۔ تاہم، اس جارحیت کے باوجود ہم اپنی اصل ترجیح – پاکستان کی معاشی ترقی – سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اب ہمیں ”بزنس ایز یوزوئل“ کے طرز عمل سے باہر نکل کر ایک جراتمند اور مستقبل بین حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ موجودہ دور مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا ہے اور پاکستان کو عالمی رفتار سے ہم آہنگ ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دفاتر اور تعلیمی اداروں میں بہتری نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمیں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ”اُڑان پاکستان“ کا بنیادی فلسفہ یہی ہے کہ پاکستان کو ایک تیز رفتار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے تاکہ وہ 2025 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بن سکے۔ لیکن اگر ہم موجودہ 4 فیصد کی رفتار سے بڑھتے رہے تو 2035 تک بھی معیشت 500 ارب ڈالر تک ہی پہنچے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہر ادارے میں انقلابی تبدیلی ناگزیر ہے۔ ”اُڑان پاکستان“ صرف ایک پروگرام نہیں بلکہ ایک قومی انقلابی منصوبہ ہے جو ہر شعبے کو جدید، ہدفی اور پائیدار ترقی کی حکمت عملی اپنانے کی دعوت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت پانچ بڑے معاشی مسائل کو حل کرنا اولین ترجیح ہے، جن میں برآمدات پر مبنی ترقی، جامع اقتصادی شمولیت، نوجوانوں کے لیے روزگار، ڈیجیٹلائزیشن، اور ماحولیاتی موافقت شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ”اُڑان پاکستان“ کے تحت انفارمیشن ٹیکنالوجی، ایگریکلچر ٹیک، گرین ٹیک، مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی اور کلاؤڈ انفرا اسٹرکچر جیسے شعبے ملکی معیشت کو نئی جہت دیں گے۔
پراجیکٹ ڈائریکٹر ارما ملک نے اجلاس میں ”اُڑان پاکستان“ پروگرام کی پیش رفت، پالیسی خامیوں، اور ان کے حل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد قومی ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر بنانا، واضح مانیٹرنگ فریم ورک تشکیل دینا، اور تمام لائن منسٹریز کی استعداد کار کو بڑھانا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پی ایس ڈی پی اور اے ڈی پی منصوبوں کو ”اُڑان پاکستان“ کے اہداف سے ہم آہنگ بنایا جائے اور ہر شعبے میں فوری، مؤثر اور نمایاں اثرات کے حامل منصوبوں کی شناخت کی جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.