کیا بھارت کی جانب سے فضائی حملہ متوقع ہے؟
- بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل وی آر چوہدری سے اہم ملاقات
بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد پاک-بھارت کشیدگی میں اضافے کے تناظر میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل وی آر چوہدری سے ایک اہم ملاقات کی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اگرچہ اس ملاقات کے بعد کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا، لیکن اسے 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے اس حملے سے جوڑا جا رہا ہے جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اس سے قبل 30 اپریل کو بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپندر دویدی نے وزیراعظم مودی سے ملاقات کی تھی، جس میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال بھی شریک تھے۔
اسی طرح 3 مئی کو بحریہ کے سربراہ ایڈمرل دنیش ترپاٹھی نے وزیراعظم مودی سے ایک گھنٹہ طویل مشاورت کی، جس میں بحری تیاریوں اور بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پہلگام میں سیاحتی مقام پر ہونے والے ہلاکت خیز حملے کے بعد وزیراعظم مودی نے اپنی رہائش گاہ پر ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی، جس میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان موجود تھے۔ اجلاس کے دوران مودی نے کہا کہ مسلح افواج کو اپنے ردعمل کے طریقہ، وقت اور اہداف کے تعین کے لیے مکمل عملی آزادی حاصل ہوگی۔
ایسے میں پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی بھارتی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، جو آج (اتوار) کو آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل احمد شریف کے ہمراہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کو قومی سلامتی پر بریفنگ دینے والے ہیں، نے بھارت کو سخت تنبیہ جاری کی ہے۔
























Comments
Comments are closed.