اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے روایتی اور شریعت کے مطابق کمرشل بینکوں میں 11.85 کھرب روپے کی خطیر رقم 14 دن کے لیے شامل کی ہے۔ یہ بات بزنس ریکارڈر کو جمعے کو معلوم ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام بینکاری نظام میں لیکویڈیٹی کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ حکومت کی جانب سے مالی خسارے کی تکمیل کے لیے درکار فنڈنگ کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس محصولات کی وصولی میں کمی اور اخراجات میں اضافے کے باعث حکومت کا انحصار ایک بار پھر مقامی قرضوں پر بڑھ گیا ہے۔
وزارت خزانہ نے اپنی ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک اپریل 2025 ء میں بتایا کہ جولائی تا مارچ مالی سال 2024-25ء کے دوران مجموعی اخراجات 23.2 فیصد اضافے کے ساتھ 10.36 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے، موجودہ اخراجات 17.2 فیصد اضافے کے ساتھ 9.56 ٹریلین روپے، مارک اپ ادائیگیاں (18.2 فیصد) اور نان مارک اپ اخراجات (15.7 فیصد)۔ ترقیاتی اخراجات میں 50.3 فیصد اضافہ ہوا۔
دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکسوں کی مد میں محصولات کی وصولی مالی سال 25 کے پہلے 9 ماہ میں 703 ارب روپے کے شارٹ فال تک پہنچ گئی، جولائی تا مارچ 2024-25 کے دوران مجموعی طور پر 9.17 ٹریلین روپے کے ہدف کے مقابلے میں 8.46 ٹریلین روپے جمع ہوئے۔
حکومت نے رواں مالی سال 2024-25 ء کے لئے ایف بی آر کے سالانہ ٹیکس وصولیوں کے ہدف کو 12.91 ٹریلین روپے سے کم کرکے 12.33 ٹریلین روپے کردیا ہے۔
مرکزی بینک کے اوپن مارکیٹ آپریشنز (او ایم او) کے اعداد و شمار کے مطابق بینک نے کمرشل بینکوں کو 14 روز کے لیے 12.03 فیصد شرح سود پر 11.15 ٹریلین روپے فراہم کیے۔ اس کے علاوہ بینکنگ سسٹم میں مزید 447.45 ارب روپے 7 روز کے لیے 12.09 فیصد شرح سود پر داخل کیے گئے۔
اس نے 14 دنوں کے لئے 12.10 فیصد شرح منافع پر شریعت کے مطابق بینکوں میں 151.50 ارب روپے شامل کیے۔ اور اس نے انہیں 7 دن کے لئے 12.9 فیصد پر مزید 106 ارب روپے فراہم کیے۔
عارف حبیب لمیٹڈ، ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق نے کہا کہ او ایم اوز کے ذریعے لیکویڈیٹی کا انجکشن دو ہفتوں تک کی مختصر مدت کے لئے 12 ٹریلین روپے کی حالیہ بلند ترین سطح کے قریب رہا۔
انہوں نے کہا، “اس کے نتیجے میں روایتی اور شریعت کی تعمیل کرنے والے کمرشل بینکوں کے واجب الادا قرضے مرکزی بینک سے تقریبا 12 ٹریلین روپے کی حالیہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
بینکوں کو دو ہفتے قبل اسٹیٹ بینک سے لیے گئے 12 کھرب روپے کے اپنے سابقہ قرضوں کی ادائیگی کے لیے مرکزی بینک سے نئی فنانسنگ کی ضرورت تھی۔
اسٹیٹ بینک بینکوں کو فنانسنگ فراہم کرنے کے لیے او ایم او کا انعقاد کرتا ہے، جو بعد میں وہ حکومت کو فراہم کرتے ہیں تاکہ محصولات کی وصولی میں کمی کے باعث مالی خسارے کو پورا کرنے میں مدد مل سکے۔






















Comments
Comments are closed.