سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن کا فائنل ٹیکس ریجیم کی مدت میں دس سال کی توسیع کا مطالبہ
پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ آئی ٹی اور سافٹ ویئر کی برآمدات پر فائنل ٹیکس ریجیم (ایف ٹی آر) کی مدت میں دس سال کی توسیع کردے تاکہ اس صنعت میں برآمدات اور سرمایہ کاری کو مزید فروغ مل سکے۔
پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے مطابق فائنل ٹیکس ریجیم جو آئی ٹی اور آئی ٹی-اینیبلڈ سروسز (آئی ٹی ای ایس) کی برآمدات پر عائد کیا جاتا ہے، آئندہ مالی سال کے اختتام پر 30 جون 2026 کو ختم ہونے والا ہے۔
فائنل ٹیکس ریجم کے تحت پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (پی ایس ای بی) سے رجسٹرڈ اداروں کو برآمدی آمدن پر 0.25 فیصد کم شرح پر ودہولڈنگ ٹیکس کی سہولت حاصل ہے، جو مخصوص مدت تک نافذ العمل ہے۔
چیئرمین پاشا سجاد مصطفیٰ سید نے ایک بیان میں کہا کہ فائنل ٹیکس ریجم کا تسلسل آئی ٹی صنعت میں برآمدات کے بڑھتے ہوئے رجحان اور سرمایہ کاری کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیکس نظام کو 2035 تک توسیع دی جانی چاہیے تاکہ پیشگی اندازہ لگانے کی سہولت، تسلسل اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ یقینی بنایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی صنعت میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری آرہی ہے، آپریشنز میں تیزی سے وسعت آرہی ہے اور برآمدی منڈیوں میں علاقائی سطح پر تنوع کا عمل جاری ہے۔
سجاد مصطفیٰ سید نے مزید کہا کہ دس سالہ ٹیکس استثنیٰ نہ صرف ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو تیز کرے گا بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرے گا اور پاکستان کو ایک نمایاں آئی ٹی مرکز کے طور پر اُجاگر کرے گا — جو اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی ) کے مقاصد اور وزیرِاعظم کے آئی ٹی برآمدات میں انقلابی اضافے کے وژن کے عین مطابق ہے۔
پاشا نے آئندہ وفاقی بجٹ 2025-26 کے لیے اپنی تفصیلی بجٹ تجاویز اور دیگر اہم پالیسی سفارشات متعلقہ وزارتوں اور ان کے ماتحت اداروں کو پیش کی ہیں، جن میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ، آئی ٹی صنعت کی ترقی، برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا بنیادی اہداف کے طور پر شامل ہیں۔
سجاد مصطفیٰ نے کہا کہ فائنل ٹیکس رجیم کا تسلسل آئی ٹی کمپنیوں کے لیے ٹیکس کے ڈھانچے کو آسان بنائے گا اور برآمدکنندگان کو کاروبار کے پھیلاؤ اور ٹیکنالوجی میں جدت کے لیے زیادہ آمدنی محفوظ رکھنے کی اجازت دے کر دوبارہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکس مراعات کی فراہمی اور ان کی پالیسی سطح پر مستقل مزاجی کو یقینی بنانا “آئی ٹی/آئی ٹی ای ایس صنعت کے لیے سازگار کاروباری ماحول تشکیل دینے کے لیے ناگزیر ہے۔
چیئرمین پاشا نے وضاحت کی کہ آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس برآمدات کے لیے فائنل ٹیکس رجیم کی بحالی پاکستان کو ان علاقائی حریف ممالک کے برابر لے آئے گی جو غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے طویل مدتی ٹیکس مراعات دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر مسابقت، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے آئی ٹی شعبے کو استحکام اور پالیسی میں تسلسل کی ضرورت ہے۔
انکم ٹیکس میں عدم مساوات برین ڈرین کا باعث بنتی ہے
انہوں نے پاکستان میں تنخواہ دار افراد کی جانب سے ادا کیے جانے والے انکم ٹیکس کی شرح میں 5 سے 35 فیصد اور بیرونی ممالک میں 0.25 سے 1 فیصد کی شرح میں فرق کی طرف متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ انکم ٹیکس میں یہ وسیع فرق ٹیلنٹ مائیگریشن، برین ڈرین اور اس کے نتیجے میں مقامی کمپنیوں کو ہنرمند آئی ٹی اور ٹیک پروفیشنلز کو برقرار رکھنے میں چیلنجز کا باعث بن رہا ہے ۔
انہوں نے زور دیا کہ ملک کو آئی ٹی کمپنیوں میں تنخواہ دار افراد پر انکم ٹیکس کی شرح کو کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس شعبے کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لایا جاسکے۔
ودہولڈنگ ٹیکس کی ادائیگی پر استثنٰی کا مطالبہ
چیئرمین پاشا نے حکام سے درخواست کی کہ غیر مقیم افراد کو پاکستان میں فراہم کردہ خدمات کے عوض ڈالرز میں کی جانے والی ادائیگیوں پر موجودہ انکم ٹیکس آرڈیننس (آئی ٹی او)، 2001 کے تحت وصول کیا جانے والا غیر منصفانہ ودہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ادائیگی کے نظام کو سہل بنایا جانا چاہیے کیونکہ آئی ٹی اور آئی ٹی ای ایس ایکسپورٹرز کبھی کبھار غیر ملکی خدمات حاصل کرتے ہیں تاکہ وہ انہیں دوبارہ برآمد کر کے ملک کے لیے زرمبادلہ کما سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے قابل اطلاق ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحیں ادائیگی کی نوعیت اور پاکستان اور وصول کنندہ کے ممالک کے درمیان موجود دہری ٹیکس معاہدوں (ڈی ٹی ایز) کی موجودگی پر منحصر ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، غیر مقیم افراد کو پاکستان میں مستقل قیام نہ ہونے کی صورت میں رائلٹیز اور تکنیکی خدمات کی فیس پر 15فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس لیے یہ تجویز دی جاتی ہے کہ برآمد کنندگان کے خصوصی غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس سے کی جانے والی خدمات کے عوض ادائیگیاں ودہولڈنگ ٹیکس سے مستثنیٰ ہونی چاہئیں۔ یہ استثنیٰ آئی ٹی خدمات کی تمام اقسام پر لاگو ہوگا اور پاکستان میں فنڈز کی واپسی کو بھی بڑھاوا دے گا۔
























Comments
Comments are closed.