ٹرانسپورٹرز آف گڈز ایسوسی ایشن (ٹی جی اے) کی جانب سے کراچی کی بندرگاہوں پر ہڑتال نے مزید شدت اختیار کرلی ہے جس کے باعث مال برداری کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
کراچی کی دو بندرگاہوں پر گزشتہ 4 روز سے ہڑتال جاری ہے جس کے باعث کنٹینرز میں موجود خراب ہونے والی اشیاء کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ گیا جب کہ سامان پر امریکی ڈالر میں ڈیمرج چارجز کا خطرہ بھی منڈلا رہا ہے۔
کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے صدر جاوید بلوانی نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال پاکستان کی برآمدات میں اضافے کی کوششوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے ٹیرف نے پہلے ہی ایک عالمی تجارتی جنگ کو جنم دیا ہے جس سے برآمدی اہداف حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ وہ ہڑتال کو طول دینے سے بچنے اور کاروبار کو معمول پر لانے کے لئے صورتحال پر توجہ دیں۔
کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو تصدیق کی ہے کہ ٹرانسپورٹرز نے سندھ حکومت کے ساتھ گاڑیوں کی فٹنس پر بڑھتے ہوئے اختلافات کے خلاف ہڑتال کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پورٹ حکام کا ہڑتال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
ٹرانسپورٹرز فٹنس سرٹیفکیٹ، بھاری مال بردارگاڑیوں کی مرمت اور کیمرے نصب کے لیے 6 ماہ کا وقت مانگ رہے ہیں ۔
وفاقی چیمبر کے سابق نائب صدر خرم اعجاز نے کہا ہے کہ کراچی کی بندرگاہوں پر مال کی نقل و حمل منگل اور بدھ کو جزوی طور پر متاثر ہوئی۔
تاہم ٹرانسپورٹرز نے جمعرات کو دیگر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنوں سے ٹی جی اے کی حمایت کرنے پر رضامندی حاصل کرکے سامان کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر روک دیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال اسی طرح برقرار رہی اور متعلقہ حکام نے ٹرانسپورٹرز کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے توجہ نہ دی تو آئندہ چند دنوں میں مال بردار جہاز پورٹس کو خالی چھوڑ کر روانہ ہونے لگیں گے۔
خرم اعجاز نے مزید کہا کہ یہ صورتحال فیکٹریوں میں کام کو بھی متاثر کرے گی اور دو سے تین دن میں ملک کی درآمدات اور برآمدات پر اثر ڈالنا شروع کردے گی۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو پہلے ہی برآمدات کو فروغ دینے اور معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے میں مسائل کا سامنا ہے۔
کراچی سمیت ملک بھر میں روزانہ تقریبا 10 ہزار کنٹینرز منتقل کیے جاتے ہیں۔
ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر آصف سخی نے کہا ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے تقریباً 90 فیصد درآمدی اور برآمدی آپریشنز رکے ہوئے ہیں۔
آصف سخی نے کہا کہ بندرگاہوں پر جگہ کی کمی کی وجہ سے لنگر انداز ہونے والے جہاز لنگر انداز نہیں ہوسکیں گے جس سے درآمدی و برآمدی آرڈرز متاثر ہوں گے۔ ٹرانسپورٹرز کے احتجاج کی وجہ سے ہزاروں کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں ٹرمینلز پر بڑے پیمانے پر رش لگا ہوا ہے۔
ٹی جی اے کے صدر طارق گجر کے مطابق کراچی اور ملک بھر میں روزانہ تقریبا 10 ہزار کنٹینرز منتقل کیے جاتے ہیں۔
ٹی جی اے کی طرف سے بھیجے گئے ایک خط میں کہا گیا کہ انہوں نے اپنی گاڑیوں کی مرمت کے لیے چھ ماہ کا وقت مانگا ہے، جس میں گاڑیوں پر کیمرے نصب کرنا، ضبط شدہ گاڑیوں کو رہا کرنا اور بعض گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کے عمل کو روکنا شامل ہے۔





















Comments
Comments are closed.