BR100 Increased By (5%)
BR30 Increased By (5.87%)
KSE100 Increased By (4.23%)
KSE30 Increased By (4.7%)
BAFL 57.52 Increased By ▲ 2.02 (3.64%)
BIPL 27.62 Increased By ▲ 0.72 (2.68%)
BOP 34.61 Increased By ▲ 1.97 (6.04%)
CNERGY 10.76 Increased By ▲ 0.47 (4.57%)
DFML 18.41 Increased By ▲ 0.60 (3.37%)
DGKC 213.87 Increased By ▲ 18.69 (9.58%)
FABL 101.47 Increased By ▲ 2.79 (2.83%)
FCCL 56.47 Increased By ▲ 4.73 (9.14%)
FFL 16.85 Increased By ▲ 0.36 (2.18%)
GGL 25.76 Increased By ▲ 0.70 (2.79%)
HBL 308.18 Increased By ▲ 16.18 (5.54%)
HUBC 224.39 Increased By ▲ 10.42 (4.87%)
HUMNL 10.72 Increased By ▲ 0.27 (2.58%)
KEL 7.47 Increased By ▲ 0.33 (4.62%)
LOTCHEM 27.68 Increased By ▲ 0.87 (3.25%)
MLCF 96.56 Increased By ▲ 8.39 (9.52%)
OGDC 323.45 Increased By ▲ 13.07 (4.21%)
PAEL 43.37 Increased By ▲ 2.52 (6.17%)
PIBTL 16.80 Increased By ▲ 0.95 (5.99%)
PIOC 295.89 Increased By ▲ 12.20 (4.3%)
PPL 224.67 Increased By ▲ 13.57 (6.43%)
PRL 55.51 Increased By ▲ 2.37 (4.46%)
SNGP 104.67 Increased By ▲ 6.42 (6.53%)
SSGC 25.97 Increased By ▲ 1.12 (4.51%)
TELE 8.65 Increased By ▲ 0.36 (4.34%)
TPLP 13.18 Increased By ▲ 0.21 (1.62%)
TRG 60.05 Increased By ▲ 1.08 (1.83%)
UNITY 10.24 Increased By ▲ 0.36 (3.64%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)

میانمار میں آنے والے تباہ کن زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 3,354 تک پہنچ گئی ہے، جب کہ 4,850 افراد زخمی اور 220 لاپتہ ہیں۔

ملٹری حکومت کے سربراہ سینئر جنرل من آنگ ہلائنگ نایپیتاو واپس پہنچ گئے، جہاں وہ بنکاک میں جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد آئے ہیں۔ اس دوران انہوں نے تھائی لینڈ، نیپال، بھوٹان، سری لنکا اور بھارت کے رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔

میانمار کے سرکاری میڈیا کے مطابق من آنگ ہلائینگ نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو دسمبر میں آزاد اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے بارے میں آگاہ کیا۔

بھارتی وزیر خارجہ کے ترجمان نے جمعہ کو بتایا کہ مودی نے میانمار کی خانہ جنگی میں زلزلے کے بعد جنگ بندی کو مستقل بنانے پر زور دیا اور کہا کہ انتخابات کو جامع اور قابلِ اعتماد ہونا چاہیے۔

ناقدین نے انتخابات کو ایک دھوکہ قرار دیا جس کا مقصد جنرلوں کو پراکسی کے ذریعے اقتدار میں رکھنا ہے۔

سنہ 2021 میں نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی منتخب سویلین حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے فوج کو میانمار چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں معیشت اور بنیادی خدمات، بشمول صحت کی دیکھ بھال برباد ہوچکی ہیں، اور یہ صورتحال 28 مارچ کے زلزلے سے مزید سنگین ہوگئی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بغاوت کے بعد ہونے والی خانہ جنگی نے 30 لاکھ سے زائد افراد کو بے گھر کردیا ہے، وسیع پیمانے پر غذائی عدم تحفظ اور ایک تہائی سے زیادہ آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ ٹام فلیچر نے جمعہ کی رات زلزلے کے مرکز کے قریب میانمار کے دوسرے سب سے بڑے شہر منڈلے میں گزاری اور ایکس پر پوسٹ کیا کہ انسانی ہمدردی اور کمیونٹی گروپوں نے ’ہمت، مہارت اور عزم‘ کے ساتھ زلزلے سے نمٹنے کی قیادت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا اور پھر بھی زندہ بچ جانے والوں کی مدد کے لیے باہر نکلتے رہے۔

Comments

Comments are closed.