BR100 Decreased By (-1.49%)
BR30 Decreased By (-1.14%)
KSE100 Decreased By (-0.85%)
KSE30 Decreased By (-1.61%)
BAFL 58.89 Decreased By ▼ -0.14 (-0.24%)
BIPL 24.11 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 30.91 Decreased By ▼ -0.79 (-2.49%)
CNERGY 12.11 Increased By ▲ 0.05 (0.41%)
DFML 15.84 Increased By ▲ 0.29 (1.86%)
DGKC 200.75 Decreased By ▼ -2.44 (-1.2%)
FABL 92.00 Decreased By ▼ -1.14 (-1.22%)
FCCL 58.21 Decreased By ▼ -0.50 (-0.85%)
FFL 13.40 Decreased By ▼ -0.07 (-0.52%)
GGL 19.12 Decreased By ▼ -0.79 (-3.97%)
HBL 299.50 Decreased By ▼ -3.26 (-1.08%)
HUBC 202.60 Decreased By ▼ -5.45 (-2.62%)
HUMNL 8.62 Decreased By ▼ -0.07 (-0.81%)
KEL 6.10 Decreased By ▼ -0.04 (-0.65%)
LOTCHEM 24.35 Decreased By ▼ -0.47 (-1.89%)
MLCF 100.19 Decreased By ▼ -1.90 (-1.86%)
OGDC 313.80 Decreased By ▼ -2.44 (-0.77%)
PAEL 33.55 Decreased By ▼ -0.47 (-1.38%)
PIBTL 13.23 Decreased By ▼ -0.19 (-1.42%)
PIOC 261.99 Decreased By ▼ -3.45 (-1.3%)
PPL 218.10 Decreased By ▼ -3.20 (-1.45%)
PRL 85.50 Increased By ▲ 0.90 (1.06%)
SNGP 91.82 Decreased By ▼ -2.03 (-2.16%)
SSGC 22.65 Decreased By ▼ -0.29 (-1.26%)
TELE 7.17 Increased By ▲ 0.10 (1.41%)
TPLP 13.15 Increased By ▲ 0.04 (0.31%)
TRG 53.58 Decreased By ▼ -0.45 (-0.83%)
UNITY 8.03 Increased By ▲ 0.13 (1.65%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.08 (8.51%)

میانمار میں آنے والے تباہ کن زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 3,354 تک پہنچ گئی ہے، جب کہ 4,850 افراد زخمی اور 220 لاپتہ ہیں۔

ملٹری حکومت کے سربراہ سینئر جنرل من آنگ ہلائنگ نایپیتاو واپس پہنچ گئے، جہاں وہ بنکاک میں جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد آئے ہیں۔ اس دوران انہوں نے تھائی لینڈ، نیپال، بھوٹان، سری لنکا اور بھارت کے رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں۔

میانمار کے سرکاری میڈیا کے مطابق من آنگ ہلائینگ نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو دسمبر میں آزاد اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے بارے میں آگاہ کیا۔

بھارتی وزیر خارجہ کے ترجمان نے جمعہ کو بتایا کہ مودی نے میانمار کی خانہ جنگی میں زلزلے کے بعد جنگ بندی کو مستقل بنانے پر زور دیا اور کہا کہ انتخابات کو جامع اور قابلِ اعتماد ہونا چاہیے۔

ناقدین نے انتخابات کو ایک دھوکہ قرار دیا جس کا مقصد جنرلوں کو پراکسی کے ذریعے اقتدار میں رکھنا ہے۔

سنہ 2021 میں نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی منتخب سویلین حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے فوج کو میانمار چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں معیشت اور بنیادی خدمات، بشمول صحت کی دیکھ بھال برباد ہوچکی ہیں، اور یہ صورتحال 28 مارچ کے زلزلے سے مزید سنگین ہوگئی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بغاوت کے بعد ہونے والی خانہ جنگی نے 30 لاکھ سے زائد افراد کو بے گھر کردیا ہے، وسیع پیمانے پر غذائی عدم تحفظ اور ایک تہائی سے زیادہ آبادی کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے سربراہ ٹام فلیچر نے جمعہ کی رات زلزلے کے مرکز کے قریب میانمار کے دوسرے سب سے بڑے شہر منڈلے میں گزاری اور ایکس پر پوسٹ کیا کہ انسانی ہمدردی اور کمیونٹی گروپوں نے ’ہمت، مہارت اور عزم‘ کے ساتھ زلزلے سے نمٹنے کی قیادت کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا اور پھر بھی زندہ بچ جانے والوں کی مدد کے لیے باہر نکلتے رہے۔

Comments

Comments are closed.