یوکرین نے روس پر ہفتے کے اختتام پر خارکیف پر حملے کے دوران ”جنگی جرم“ کا ارتکاب کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ امریکی حمایت یافتہ فائر بندی کی کوششیں ناکام دکھائی دے رہی ہیں۔
ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب، روسی حملوں میں خارکیف کے ایک فوجی اسپتال اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 30 زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق، حملے میں فوجی اہلکار بھی زخمی ہوئے جو اسپتال میں زیر علاج تھے۔
یوکرین کی فوج نے الزام عائد کیا کہ حملے میں روس نے ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز استعمال کیے۔ کییف کا کہنا ہے کہ روس نے بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے اور یہ حملہ جنگی جرم کے مترادف ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جنگ کے جلد خاتمے کے لیے روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، روس نے امریکہ اور یوکرین کی غیر مشروط جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس پر مذاکرات کو طول دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ماسکو پر حقیقی دباؤ ڈالا جائے تو فائر بندی ممکن ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب، ماسکو اور کییف امریکی حکام کے ساتھ بات چیت میں بحیرہ اسود میں جنگ بندی کے اصولی معاہدے پر متفق ہو چکے ہیں، لیکن روس کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اس وقت تک نافذ نہیں ہوگا جب تک مغربی ممالک اس پر عائد کچھ پابندیاں نہیں ہٹاتے۔
دریں اثنا، روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے مشرقی ڈونیٹسک اور جنوبی زاپوریژیا کے علاقوں میں دو دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ایک عبوری انتظامیہ کے قیام کا مطالبہ کیا ہے، جسے مبصرین یوکرینی حکومت کی تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔
پوتن نے ایک بار پھر زیلنسکی کے اقتدار میں موجودگی کے جواز پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں یوکرین کا قانونی صدر ماننے سے انکار کیا ہے۔ یوکرین کے آئین کے مطابق، جنگ کے دوران انتخابات نہیں ہو سکتے، اور زیلنسکی کے سیاسی مخالفین بھی اس مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں کہ انتخابات جنگ کے خاتمے کے بعد ہی ممکن ہوں گے۔






















Comments
Comments are closed.