BR100 Decreased By (-0.13%)
BR30 Increased By (0.11%)
KSE100 Decreased By (-0.1%)
KSE30 Decreased By (-0.25%)
BAFL 57.90 Decreased By ▼ -0.26 (-0.45%)
BIPL 27.27 Increased By ▲ 0.04 (0.15%)
BOP 34.62 Increased By ▲ 0.22 (0.64%)
CNERGY 13.52 Increased By ▲ 0.41 (3.13%)
DFML 18.55 Increased By ▲ 0.15 (0.82%)
DGKC 215.50 Increased By ▲ 1.84 (0.86%)
FABL 99.68 Increased By ▲ 0.12 (0.12%)
FCCL 57.55 Decreased By ▼ -0.51 (-0.88%)
FFL 16.43 Increased By ▲ 0.20 (1.23%)
GGL 23.98 No Change ▼ 0.00 (0%)
HBL 334.00 Decreased By ▼ -4.16 (-1.23%)
HUBC 212.91 Decreased By ▼ -0.45 (-0.21%)
HUMNL 10.59 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
KEL 7.44 Increased By ▲ 0.01 (0.13%)
LOTCHEM 27.50 Decreased By ▼ -0.17 (-0.61%)
MLCF 101.90 Decreased By ▼ -0.85 (-0.83%)
OGDC 319.50 Increased By ▲ 0.58 (0.18%)
PAEL 42.91 Decreased By ▼ -0.19 (-0.44%)
PIBTL 16.66 Increased By ▲ 0.03 (0.18%)
PIOC 275.00 Increased By ▲ 2.00 (0.73%)
PPL 230.81 Increased By ▲ 1.36 (0.59%)
PRL 75.88 Increased By ▲ 5.08 (7.18%)
SNGP 103.00 Decreased By ▼ -1.58 (-1.51%)
SSGC 27.06 Decreased By ▼ -0.35 (-1.28%)
TELE 8.55 Increased By ▲ 0.02 (0.23%)
TPLP 15.55 Decreased By ▼ -0.21 (-1.33%)
TRG 59.81 Decreased By ▼ -0.48 (-0.8%)
UNITY 11.54 Decreased By ▼ -0.18 (-1.54%)
WTL 1.22 Increased By ▲ 0.02 (1.67%)

ایشیائی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا تاہم مسلسل تیسرے ہفتے کی کمی کی جانب گامزن رہیں جس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چین کے خلاف نئی تجارتی جنگ اور دیگر ممالک پر محصولات بڑھانے کی دھمکیاں ہیں۔

برینٹ کروڈ 32 سینٹ اضافے سے 74.61 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا تاہم رواں ہفتے اس میں 2.8 فیصد کمی متوقع ہے۔ دریں اثناء امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 24 سینٹ اضافے سے 70.85 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا جو ہفتہ وار بنیادوں پر تقریبا 2.3 فیصد کم ہے۔

آئی جی مارکیٹ اسٹریٹجسٹ یپ جون رونگ نے کہا کہ خام تیل کی قیمتوں میں رات بھر اتار چڑھاؤ کے بعد آج صبح کچھ استحکام دیکھنے میں آیا کیونکہ تاجر ایران سے چین کو خام تیل کی برآمدات پر امریکی پابندیوں کی خبروں پر ردعمل دے رہے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ نے جمعرات کو کہا کہ وہ چند افراد اور ٹینکرز پر نئی پابندیاں عائد کررہا ہے جو ہر سال لاکھوں بیرل ایرانی خام تیل چین کو پہنچانے میں مدد دے رہے ہیں تاکہ تہران پر دباؤ مزید بڑھایا جاسکے ۔

آئی جی کے یپ جون رونگ نے مزید کہا کہ اس کے باوجود (آج ) تیل کے اضافے محدود رہے، جو رسدوطلب سے متعلق مسلسل خدشات کی عکاسی کرتے ہیں جن میں اوپیک پلس اور امریکہ کی جانب سے ممکنہ پیداوار میں اضافے کے ساتھ محصولات کے خطرات، جو عالمی تیل کی طلب پر دباؤ ڈال رہے ہیں شامل ہیں۔

ٹرمپ نے امریکی تجارتی توازن بہتر بنانے کے وسیع منصوبے کے تحت چینی درآمدات پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا تاہم میکسیکو اور کینیڈا پر بھاری محصولات لگانے کا منصوبہ معطل کردیا۔

بی ایم آئی کے تجزیہ کاروں نے جمعہ ک ایک نوٹ میں کہا کہ محصولات کے بارے میں خبروں کے بہاؤ کی وجہ سے منفی دباؤ پیدا ہوا ہے، ممکنہ تجارتی جنگ کے خدشات نے تیل کی طلب کو کمزور کرنے کے خدشات کو ہوا دی ہے۔

بی ایم آئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت امریکی صدر ٹرمپ کے 4 فروری کے ایگزیکٹو آرڈر پر حاوی ہو گئی ہے جس کے تحت انہوں نے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم دوبارہ نافذ کی، بشمول اس عزم کے کہ ایران کی تیل برآمدات کو موجودہ 1.5 ملین بیرل یومیہ سے صفر تک لایا جائے۔

جمعرات کو تیل کی قیمتیں کم سطح پر بند ہوئیں، جب ٹرمپ نے امریکی تیل کی پیداوار بڑھانے کے عزم کو دہرایا، جس سے تاجروں میں بے چینی پھیل گئی، خاص طور پر ایک دن بعد جب ملک نے توقع سے کہیں زیادہ خام تیل کے ذخائر میں اضافے کی رپورٹ دی۔

بینچ مارک قیمتیں امریکی خام تیل کے بڑھتے ذخائر کے دباؤ میں بھی رہیں جو گزشتہ ہفتے نمایاں طور پر بڑھ گئے، کیونکہ جاری ریفائنری دیکھ بھال کے باعث طلب میں کمی واقع ہوئی۔

Comments

Comments are closed.