دنیا کی معیشت کو درپیش متعدد چیلنجز کے درمیان، چین، جو دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے، عالمی اقتصادی ترقی کے لیے ایک ”استحکام کے ستون“ اور ”رفتار کے ذریعے“ کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے جس کی وجہ سے عالمی سطح پر اس پر وسیع توجہ مرکوز ہے۔ چین کی معیشت کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک جامع اور نظریاتی نقطہ نظر اپنانا ضروری ہے – جس میں ”اطوار“ اور ”رجحان“ دونوں پر غور کیا جائے، ”مقدار“ اور ”معیار“ دونوں پر توجہ مرکوز کی جائے اور نہ صرف “طویل المدتی منظرنامہ “ سے تجزیہ کیا جائے بلکہ “ کراس سیکشنل منظر نامہ “ سے بھی تجزیہ کیا جائے۔
چین کا دہرا گردشی ماڈل - جہاں داخلی اور خارجی معیشتیں مثبت انداز میں باہم تعامل کرتی ہیں - مستحکم اور پائیدار اقتصادی نمو کے لیے ایک اہم بنیاد کے طور پر کام کرتا ہے۔ چین ایک جامع صنعتی نظام، مختلف اقسام کے کاروباری اداروں، زیادہ مقامی بچت کی شرح اور ماحولیاتی تبدیلیوں اور اقتصادی اتار چڑھاؤ کے لیے مضبوط مطابقت کا حامل ہے - یہ سب عوامل اس کی معیشت کی لچک کو بڑھاتے ہیں۔ پچھلے ستمبر میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو نے فیصلہ کن طور پر پالیسیوں کا ایک پیکج نافذ کیا جس نے مؤثر طریقے سے سماجی اعتماد کو بڑھایا اور ایک نمایاں اقتصادی بحالی کو تحریک دی۔
چین کی معیشت نے نہ صرف ”مقدار“ میں معقول ترقی حاصل کی ہے بلکہ ”معیار“ میں بھی نمایاں بہتری پائی ہے۔ مجموعی پیداوار کے لحاظ سے چین کی جی ڈی پی 2024 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں 94.97 ٹریلین آر ایم بی تک پہنچ گئی جو سالانہ بنیادوں پر 4.8 فیصد کا اضافہ ہے۔ چین کے معاشی پیمانے کے اعتبار سے تقریباً 5 فیصد سالانہ نمو ایک اوسط درجے کی معیشت کے پھیلاؤ کے مترادف ہے۔
معیار کے لحاظ سے، چین کی معیشت کی فعال کارکردگی میں بہتری جاری ہے۔ ہائی ٹیک صنعتوں نے بھرپور ترقی دکھائی ہے اور نئے معیار کی پیداواری قوتوں کی ترقی میں تیزی آئی ہے۔ اہم گروپوں کے لئے روزگار کے تحفظ میں اضافہ اور اجرت کی بڑھتی ہوئی سطح کے ساتھ شہری روزگار وسیع پیمانے پر مستحکم ہے۔
کھپت میں اضافہ ہوا ہے ، ابھرتے ہوئے شعبوں جیسے ڈیبیو اکانومی ، چاندی کی معیشت ، گاڑیوں، اے آئی، گرین ٹیکنالوجی کی معیشت نے کنزیومر مارکیٹ میں نئی روح پھونک دی ہے۔ اس کے علاوہ گرین اور لو کاربن انڈسٹریز بھی پھل پھول رہی ہیں۔ کلین انرجی کے شعبے نے تیز رفتار ترقی برقرار رکھی ہے ، شمسی توانائی کی پیداوار میں سالانہ بنیادوں پر 30.3 فیصد ، پن بجلی میں 13.6 فیصد اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے میں 10.9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دریں اثنا نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی پیداوار میں 31.8 فیصد اضافہ ہوا جو پائیدار ترقی کی رفتار کو ظاہر کرتا ہے۔
چین کی اقتصادی کارکردگی عمودی اور افقی دونوں تقابل میں نمایاں ہے۔ عالمی سطح پر نمو کی رفتار میں کمی کے باوجود چین کی معیشت دنیا بھر میں بے مثال ہے۔ عمودی طور پر 2024 کی پہلے تین سہ ماہیوں میں چین کی جی ڈی پی میں سالانہ تقریباً 3.7 ٹریلین آر ایم بی کا اضافہ ہوا اور سہ ماہی بنیاد پر نمو مسلسل 9 ماہ تک مثبت رہی۔
افقی طور پر، اسی عرصے میں، امریکہ نے 2.8 کی سالانہ جی ڈی پی نمو ریکارڈ کی جبکہ یورپی یونین اور یورو زون میں سالانہ 0.9 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اور جاپان نے سہ ماہی بنیاد پر صرف 0.2 فیصد کی نمو حاصل کی۔ ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں جو زیادہ مہنگائی، سست ترقی اور کساد بازاری کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں، چین کی مستحکم نمو کی شرح تقریباً 5 فیصد معیشت کا شاندار استحکام اور لچک کو اجاگر کرتی ہے اور اس کی اقتصادی توسیع ابھی بھی دنیا کی اہم معیشتوں میں شمار ہوتی ہے۔
متعدد عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے پس منظر میں ، دنیا چین کی معیشت پر گہری توجہ دے رہی ہے اور اس پر زیادہ اعتماد کا اظہار کر رہی ہے ، چین سے زیادہ توقعات وابستہ ہیں کہ وہ زیادہ جامع اور لچکدار عالمی معیشت کی تعمیر میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ پیش گوئیوں کے مطابق چین آئندہ 5 برسوں میں عالمی اقتصادی ترقی میں سب سے بڑا شراکت دار رہے گا جس کی شراکت کی شرح جی 7 ممالک کی مجموعی شرح سے زیادہ ہوگی۔
حال ہی میں، چین کے ہمسایہ ممالک کے رہنماؤں اور کاروباری برادری نے چینی اقتصادی امکانات کے بارے میں امید کا اظہار کیا ہے. متعدد بین الاقوامی تنظیموں اور سرمایہ کاری کے اداروں نے چین کے لئے اپنی ترقی کی پیش گوئیوں میں اضافہ کیا ہے جبکہ متعدد ملٹی نیشنل کارپوریشنوں نے ٹھوس اقدامات کے ذریعے چین کی معیشت پر اپنے اعتماد کا مظاہرہ کیا ہے۔
گزشتہ اکتوبر میں گولڈ مین ساکس نے چین کی 2024 کی اقتصادی ترقی کے لیے اپنی پیش گوئی کو 4.7 فیصد سے بڑھا کر 4.9 فیصد کر دی تھی۔ گزشتہ نومبر میں سنگاپور کے سینئر وزیر لی سین لونگ نے کہا تھا کہ چین کی معیشت میں اب بھی نمایاں ترقی کی صلاحیت موجود ہے۔ گزشتہ دسمبر میں عالمی دوا ساز کمپنی سانوفی نے بیجنگ کے ضلع یزوانگ میں انسولین کی پیداوار کی ایک نئی تنصیب کی تعمیر کے لیے ایک ارب یورو کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ چین کی وزارت تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے اکتوبر 2024 تک ملک بھر میں 46,893 نئے غیر ملکی کاروباری ادارے قائم کیے گئے جو سالانہ بنیادوں پر 11.3 فیصد اضافہ ہے۔
چین کی اقتصادی ترقی ہمسایہ ممالک کو مارکیٹ کی صلاحیت اور جدت طرازی کی قوت فراہم کرتی ہے۔ 1.4 بلین سے زیادہ آبادی اور 400 ملین سے زیادہ درمیانی آمدنی والے افراد کے ساتھ چین دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ منافع بخش کنزیومر مارکیٹ ہے. مارکیٹ کے مواقع فراہم کرنے کے علاوہ چین کی تکنیکی ایجادات تیزی سے ”عالمی سطح پر جا رہی ہیں“ جس سے ہمسایہ ممالک کو فائدہ ہو رہا ہے۔
5 جی کی جانب چین کی پیشرفت متعدد ممالک میں ٹیلی مواصلات اور موبائل انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے کی حمایت کرتی ہے۔ چین نے شمسی توانائی کے آلات اور برقی گاڑیوں کے لئے موثر پیداواری نظام قائم کیا ہے جس سے ہمسایہ ممالک کے لئے گرین اور لو کاربن ٹرانزیشن کی لاگت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
بی ڈو نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم پورے خطے میں اسمارٹ ٹرانسپورٹیشن اور ماہی گیری جیسے شعبوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اپنی ترقی میں اضافہ کرتے ہوئے چین اپنے ہمسایہ ممالک کے لیے ایک بنیاد کے طور پر ”استحکام“ اور ایک محرک قوت کے طور پر ”رفتار“ فراہم کرتا ہے۔ نئی معیاری پیداواری قوتوں کو فروغ دینے اور اعلیٰ معیار کی ترقی کو آگے بڑھانے کے ذریعے چین علاقائی اور عالمی معیشتوں میں نئی تحریک پیدا کرتا ہے۔
رواں سال پاکستان کی معیشت نے مسلسل بحالی اور مثبت رفتار کا مظاہرہ کیا ہے۔ مالی سال 2024-2025 میں پاکستان کی جی ڈی پی نمو گزشتہ سال کے منفی نمو سے بڑھ کر 2.4 فیصد ہوگئی ہے۔ مالی سال کے پہلے 4 ماہ کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری اور اشیاء کی برآمدات میں بالترتیب 32.3 فیصد اور 13.5 فیصد سالانہ بنیادوں پر اضافہ ہوا۔ دریں اثنا نومبر میں کنزیومر پرائس انڈیکس 46 ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا اور زرمبادلہ کے ذخائر 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔
یہ کامیابیاں نئے مواقع پیدا کرتی ہیں اور چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون میں نئی رفتار پیدا کرتی ہیں۔ چین پاکستان کے تمام شعبوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہے تاکہ چین کی معاشی ترقی کی لہر پر سوار ہو کر عملی تعاون کا ایک نیا باب لکھا جا سکے اور نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے ساتھ چین پاکستان کمیونٹی کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کیا جا سکے۔ دونوں ممالک مل کر اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون کے روشن عمل کو فروغ دیتے رہیں گے۔






















Comments
Comments are closed.