اسٹاک ایکسچینج : کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 600 پوائنٹس بڑھ گیا
- بینچ مارک انڈیکس 177,166.52 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعے کو کاروبار کے دوران اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے دن کے دوران کئی اتار چڑھاؤ کے بعد تقریباً 600 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ کاروبار کا اختتام کیا۔
انڈیکس نے مثبت رجحان کے ساتھ کاروبار کا آغاز کیا، تاہم جلد ہی دباؤ میں آ گیا اور کاروباری سیشن کے پہلے نصف حصے میں تیزی سے گر کر 176,110.75 پوائنٹس کی انٹرا ڈے کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔
دوپہر کے قریب فروخت کا دباؤ کم ہوا اور مارکیٹ بتدریج مستحکم ہونے لگی، جس کے بعد کاروباری سیشن کے دوسرے نصف میں نمایاں بحالی دیکھی گئی۔
بعد ازاں کاروبار کے آخری اوقات میں انڈیکس مزید بلند ہوا اور 177,583.36 پوائنٹس کی انٹرا ڈے بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، تاہم اختتام سے قبل کچھ اضافہ واپس چلا گیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 574.76 پوائنٹس یا 0.33 فیصد اضافے سے 177,166.52 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی کاروباری اختتام کے بعد جاری رپورٹ میں کہا کہ کے ایس ای 100 انڈیکس نے کاروباری سیشن کے پہلے نصف حصے میں زیادہ تر ایک محدود دائرے میں کاروبار کیا، تاہم آخری اوقات میں سرمایہ کاروں کی کچھ دلچسپی دیکھنے میں آئی۔
رپورٹ کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت کردار او جی ڈی سی، ایچ یو بی سی، اے ٹی آر ایل، ایس آر وی آئی، پی پی ایل اور میری نے ادا کیا، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 494 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
ہفتہ وار بنیاد پر انڈیکس میں 1.6 فیصد کمی ہوئی، جس کی بنیادی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات میں تعطل کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تیل کی فراہمی سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا۔
جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار اتار چڑھاؤ کا شکار رہا، کیونکہ دوبارہ پیدا ہونے والی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور عالمی سطح پر بلند تیل کی قیمتوں نے سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا، جبکہ بھاری وزن رکھنے والے اسٹاکس میں فروخت نے منتخب حصص میں ہونے والی خریداری پر سبقت حاصل کی۔ بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 254.59 پوائنٹس یا 0.14 فیصد کمی سے 176,591.77 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر جمعہ کو بیشتر ایشیائی اسٹاک انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر کمی کی جانب گامزن تھے، کیونکہ عالمی بانڈ مارکیٹس میں دباؤ کم ہونے کے کوئی نمایاں آثار نظر نہیں آئے۔ دوسری جانب خلیج میں سفارتی تعطل نے تیل کی قیمتوں کو ایک ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچا دیا اور افراط زر کے خطرات کو نمایاں رکھا۔
امریکی ٹریژریز پر ییلڈز میں دوبارہ اضافہ شروع ہوگیا، حالانکہ بدھ کو امریکی محکمہ خزانہ کی اچانک مداخلت نے بانڈز میں فروخت کے دباؤ سے بمشکل ایک دن کے لیے ریلیف فراہم کیا تھا۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ حکومت ٹریژریز کی دوبارہ خریداری مزید بڑھا سکتی ہے اور مالیاتی استحکام کے امکان کا بھی عندیہ دیا۔
تجزیہ کاروں نے اس حوالے سے شکوک کا اظہار کیا کہ وہ اخراجات میں اتنی کمی تلاش کرپائیں گے جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 6 فیصد سے زائد بجٹ خسارے کو نمایاں طور پر کم کرسکے، جبکہ رواں سال صرف سود کی ادائیگیاں ہی 1.2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ رہی ہیں۔
بلند ییلڈز دنیا بھر میں قرضوں کی لاگت بڑھاتی ہیں، ایسے وقت میں جب ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیاں اے آئی کیپیکس کے لیے بھاری قرض لے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ بلند ییلڈز کارپوریٹ آمدنی پر ڈسکاؤنٹ بڑھاتے ہوئے اسٹاک کی ویلیوایشن کے لیے بھی چیلنج پیدا کرتی ہیں۔
دباؤ کا اندازہ نکی انڈیکس سے بھی ہوا، جو 0.8 فیصد گر گیا، جس کے باعث رواں ہفتے اب تک اس کی مجموعی کمی 4.4 فیصد ہوگئی۔ جنوبی کوریا اور تائیوان کے انڈیکس میں معمولی اضافہ ہوا، تاہم دونوں ہفتہ وار بنیاد پر اب بھی کمی میں رہے۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک کے حصص پر مشتمل ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا۔
دریں اثنا پاکستانی روپے نے جمعے کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھا۔ مقامی کرنسی 0.01 روپے کے معمولی اضافے سے 277.56 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 665.19 ملین شیئرز کے مقابلے میں بڑھ کر 689.17 ملین شیئرز رہا۔
حصص کی کاروباری مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 30.79 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 35.66 ارب روپے ہوگئی۔
سینرجیکو پی کے 250.24 ملین شیئرز کے کاروبار کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی۔ اس کے بعد پاک ریفائنری کے 30.85 ملین اور کے الیکٹرک لمیٹڈ کے 27.10 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔
جمعے کو مجموعی طور پر 493 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں 246 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 216 میں کمی جبکہ 31 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
























Comments