مئی 2026ء میں افراطِ زر کی شرح 11.7 فیصد ریکارڈ
- رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں مہنگائی کی اوسط شرح 6.69 فیصد رہی
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026ء میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح سالانہ بنیادوں پر 11.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
معروف بروکریج ہاؤس عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کا کہنا ہے کہ جون 2024ء کے بعد مہنگائی کی یہ بلند ترین سطح ہے۔ اس سے قبل اپریل 2026ء میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) 10.9 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا، جبکہ مئی 2025ء میں یہ شرح محض 3.5 فیصد تھی۔
ماہانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو مئی 2026ء میں مہنگائی میں 0.5 فیصد کا اضافہ ہوا، جبکہ اس کے مقابلے میں پچھلے مہینے (اپریل) میں 2.5 فیصد کا اضافہ اور مئی 2025ء میں 0.2 فیصد کی کمی دیکھی گئی تھی۔ رواں مالی سال کے پہلے گیارہ مہینوں کے دوران اوسط مہنگائی 6.69 فیصد رہی، جو پچھلے سال اسی مدت میں ریکارڈ کی گئی 4.61 فیصد کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
شہری علاقوں میں سی پی آئی کے تحت مہنگائی مئی 2026ء میں سالانہ بنیادوں پر 11.8 فیصد بڑھی، جبکہ پچھلے مہینے یہ 11.1 فیصد اور مئی 2025ء میں 3.5 فیصد تھی۔ ماہانہ بنیادوں پر مئی 2026ء میں شہری مہنگائی میں 0.7 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اپریل میں یہ اضافہ 2.7 فیصد اور مئی 2025ء میں 0.1 فیصد تھا۔
دیہی علاقوں میں سی پی آئی کے تحت سالانہ مہنگائی مئی 2026ء میں 11.5 فیصد تک پہنچ گئی، جو پچھلے مہینے 10.6 فیصد اور مئی 2025ء میں 3.4 فیصد تھی۔ ماہانہ بنیادوں پر مئی 2026ء میں دیہی مہنگائی میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ پچھلے مہینے 2.1 فیصد اضافہ اور مئی 2025ء میں 0.5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) کے تحت سالانہ مہنگائی مئی 2026ء میں 12.0 فیصد رہی، جو پچھلے مہینے 10.1 فیصد تھی اور مئی 2025ء میں اس میں 0.6 فیصد کی کمی آئی تھی۔ ماہانہ بنیادوں پر، مئی 2026ء میں ایس پی آئی 0.7 فیصد بڑھا، جبکہ پچھلے مہینے اس میں 2.0 فیصد اضافہ اور مئی 2025ء میں 1.0 فیصد کمی ہوئی تھی۔
مہنگائی کے اسی دباؤ کے پیشِ نظر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اپریل میں اپنی مانیٹری پالیسی کے تحت شرحِ سود (پالیسی ریٹ) میں 100 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرکے اسے 11.50 فیصد کر دیا تھا، جو کہ گزشتہ تقریباً تین سالوں میں شرحِ سود میں ہونے والا پہلا اضافہ تھا۔

























Comments