BR100 Increased By (0.22%)
BR30 Increased By (0.44%)
KSE100 Increased By (0.16%)
KSE30 Increased By (0.12%)
BAFL 56.82 Increased By ▲ 0.06 (0.11%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.13 (0.53%)
BOP 29.76 Increased By ▲ 0.04 (0.13%)
CNERGY 12.89 Decreased By ▼ -0.04 (-0.31%)
DFML 17.14 Increased By ▲ 0.23 (1.36%)
DGKC 187.65 Increased By ▲ 0.68 (0.36%)
FABL 93.76 Increased By ▲ 0.23 (0.25%)
FCCL 51.86 Increased By ▲ 0.01 (0.02%)
FFL 14.15 Increased By ▲ 0.16 (1.14%)
GGL 19.50 Increased By ▲ 0.24 (1.25%)
HBL 302.45 Decreased By ▼ -0.38 (-0.13%)
HUBC 201.68 Increased By ▲ 0.35 (0.17%)
HUMNL 9.57 Increased By ▲ 0.30 (3.24%)
KEL 6.05 Increased By ▲ 0.46 (8.23%)
LOTCHEM 25.74 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
MLCF 91.35 Increased By ▲ 0.06 (0.07%)
OGDC 316.55 Decreased By ▼ -0.50 (-0.16%)
PAEL 34.59 Increased By ▲ 0.61 (1.8%)
PIBTL 13.60 Increased By ▲ 0.03 (0.22%)
PIOC 236.60 Decreased By ▼ -0.04 (-0.02%)
PPL 220.88 Decreased By ▼ -0.24 (-0.11%)
PRL 94.52 Increased By ▲ 0.14 (0.15%)
SNGP 90.80 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
SSGC 23.45 Increased By ▲ 0.38 (1.65%)
TELE 7.24 No Change ▼ 0.00 (0%)
TPLP 12.30 Increased By ▲ 0.56 (4.77%)
TRG 55.55 Increased By ▲ 0.21 (0.38%)
UNITY 7.85 Increased By ▲ 0.10 (1.29%)
WTL 1.01 Increased By ▲ 0.01 (1%)
دنیا

ایران جنگ کے خاتمے کے لیے جوہری افزودگی میں کمی کرے، امریکی نائب صدر

  • جے ڈی وینس کے مطابق واشنگٹن پر یہ بھی واضح نہیں کہ ایران میں فیصلے کون کرتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کو امریکا کے مطالبات پورے کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان جاری سات ماہ کی جنگ ختم کرنے کے لیے اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت میں بامعنی کمی کرنا ہوگی۔

رائٹرز کو خصوصی انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ کسی بھی معاہدے کے لیے ایران کو محض مستقبل میں جوہری سرگرمیاں محدود کرنے کی یقین دہانی کے بجائے افزودگی کی صلاحیت میں عملی کمی کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق اگر ایران جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا تو اسے 60 فیصد افزودہ ایندھن کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔

ایران اور امریکا نے حالیہ ہفتوں میں جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے تجاویز کا تبادلہ کیا ہے، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی تازہ پیشکش مسترد کردی ہے۔ جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا معاہدے کے لیے تیار ہے، لیکن ایران سے جوہری معاملے پر ٹھوس رعایت درکار ہوگی۔

جے ڈی وینس کے مطابق واشنگٹن پر یہ بھی واضح نہیں کہ ایران میں فیصلے کون کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بات چیت کررہا ہے، تاہم ایران کے طاقت کے ڈھانچے میں ان کے اختیارات کی حد واضح نہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے ایرانی ہم منصب کون ہیں اور ایران میں فیصلہ سازی کا نظام کیسے کام کرتا ہے۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ جنگ پر ماہانہ تقریباً 3 ارب ڈالر لاگت آرہی ہے جبکہ توانائی کی بلند قیمتیں امریکا میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکنز کے لیے سیاسی مسئلہ بن رہی ہیں۔

Comments

200 حروف