ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کو اپنے مطالبات سے مشروط کردیا
- ایران نے فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے آبنائے ہرمز پر مؤثر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں
ایران کی پاسداران انقلاب (رِیولوشنری گارڈز) نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ جب تک امریکہ ایران کے مطالبات تسلیم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز دوبارہ نہیں کھولی جائے گی۔ ان مطالبات میں جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ، ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کو ریلیز کرنا اور ایرانی بندرگاہوں کے خلاف امریکی اقدامات کا خاتمہ شامل ہے۔
ایران نے فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سے آبنائے ہرمز پر مؤثر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ وہ اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول وصول کرنا چاہتا ہے اور متبادل راستہ اختیار کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان اس وقت کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہو رہے بلکہ صرف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے نئے انتظامات پر بات چیت آخری مراحل میں ہے، تاہم گزرگاہ کی بحالی ایران کی شرائط پوری ہونے سے مشروط ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے الزام عائد کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اس کی قومی آئل کمپنی کے ایک ٹینکر کو ایران نے نشانہ بنایا، جبکہ برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی عمان کے قریب ایک بحری جہاز پر حملے کی تصدیق کی ہے۔ عمان نے جہازوں پر مسلسل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات جاری مذاکرات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ادھر ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھتے ہوئے سعودی عرب کی ایک آئل تنصیب پر میزائل اور ڈرون حملے کا دعویٰ کیا ہے۔ یمن کے شہر المخا میں بھی حوثی حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
علاقائی کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب نے گزشتہ ہفتے ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا، جسے خطے میں اجتماعی دفاع اور سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔


Comments