BR100 Increased By (1.4%)
BR30 Increased By (1.58%)
KSE100 Increased By (1.12%)
KSE30 Increased By (1.31%)
BAFL 62.13 Increased By ▲ 0.49 (0.79%)
BIPL 28.42 Decreased By ▼ -0.05 (-0.18%)
BOP 37.13 Increased By ▲ 0.28 (0.76%)
CNERGY 8.50 Increased By ▲ 0.18 (2.16%)
DFML 20.52 Decreased By ▼ -0.07 (-0.34%)
DGKC 233.98 Increased By ▲ 7.08 (3.12%)
FABL 104.18 Increased By ▲ 2.62 (2.58%)
FCCL 58.63 Decreased By ▼ -0.03 (-0.05%)
FFL 18.10 Decreased By ▼ -0.02 (-0.11%)
GGL 26.43 Decreased By ▼ -0.19 (-0.71%)
HBL 318.15 Increased By ▲ 12.24 (4%)
HUBC 235.65 Increased By ▲ 2.04 (0.87%)
HUMNL 11.25 Decreased By ▼ -0.03 (-0.27%)
KEL 8.17 Decreased By ▼ -0.07 (-0.85%)
LOTCHEM 30.56 Increased By ▲ 1.18 (4.02%)
MLCF 109.51 Increased By ▲ 2.34 (2.18%)
OGDC 348.72 Increased By ▲ 3.29 (0.95%)
PAEL 46.72 Increased By ▲ 1.33 (2.93%)
PIBTL 18.86 Decreased By ▼ -0.01 (-0.05%)
PIOC 286.21 Increased By ▲ 1.65 (0.58%)
PPL 252.66 Increased By ▲ 3.95 (1.59%)
PRL 36.45 Increased By ▲ 0.16 (0.44%)
SNGP 120.55 Increased By ▲ 1.78 (1.5%)
SSGC 32.35 Increased By ▲ 0.98 (3.12%)
TELE 9.09 Decreased By ▼ -0.12 (-1.3%)
TPLP 12.54 Increased By ▲ 0.90 (7.73%)
TRG 67.30 Decreased By ▼ -0.32 (-0.47%)
UNITY 10.75 Decreased By ▼ -0.18 (-1.65%)
WTL 1.26 Decreased By ▼ -0.02 (-1.56%)

وزارتِ خزانہ نے مالی سال 2025-26 کے آخری روز مئی اور جون کی اقتصادی تازہ صورتحال اور معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری کر دی۔

یہ امید کی جاتی ہے کہ مئی کی رپورٹ اپ لوڈ کرنے میں ایک ماہ کی تاخیر جس کی وجہ فنانس ڈویژن کی جانب سے اگلے مالی سال کے بجٹ پر توجہ مرکوز کرنا بتائی گئی ہے، مقامی (وزارت خزانہ اور اس کے انتظامی کنٹرول میں آنے والے ادارے بشمول فیڈرل بورڈ آف ریونیو) اور غیر ملکی اسٹیک ہولڈرز (بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جس نے 13 سے 20 مئی تک ملک میں ایک مشن بھیجا تھا اور 20 مئی کو جاری کردہ اپنی پریس ریلیز میں نوٹ کیا کہ مالی سال 2027 کے بجٹ پر بات چیت آنے والے دنوں میں جاری رہے گی) کیلئے دستیاب رہی ہوگی۔ بہر کیف حسب معمول فنانس ڈویژن کی طرف سے اپ لوڈ کردہ زیادہ تر ڈیٹا دو ماہ کی تاخیر کا شکار ہے، اگرچہ بعض معلومات نسبتاً تازہ ہیں، مثلاً اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن جو غیر معمولی کارکردگی ظاہر کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ٹیکس وصولیوں کے اعداد و شمار بھی تازہ نہیں، حالانکہ یہ معلومات عموماً ایف بی آر کے پاس بروقت دستیاب ہوتی ہیں۔

واضح سوال یہ ہے کہ مئی سے جون کے دوران ملکی معیشت میں کون سی اہم تبدیلیاں آئیں جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث 28 فروری سے پہلے والی سطح کے مطابق تیل کی ترسیل اب تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ اس کے علاوہ مالی گنجائش بھی بدستور محدود ہے، جس کے باعث ایک طرف فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے زیادہ ٹیکس وصولی کے اہداف مقرر کرنا ناگزیر ہو گیا ہے جبکہ دوسری جانب اگر محصولات میں کمی رہتی ہے تو حکومت کو پٹرولیم لیوی میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے جس کی بالائی حد ایک آرڈیننس کے تحت مقرر نہیں ہے۔ چونکہ پٹرولیم لیوی کو دیگر ٹیکسوں کے کھاتے میں شامل کیا جاتا ہے اس لیے یہ وفاقی قابلِ تقسیم محاصل کا حصہ نہیں بنتی۔ اس لیے حکومت اسے مالیاتی خسارے کو کم سے کم رکھنے کے لیے ضرورت کے مطابق بڑھا سکتی ہے۔

جون کے اعداد و شمار میں مئی کے مقابلے میں تین اہم شعبوں میں بہتری دیکھی گئی۔پہلا ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ ہوا جو جولائی تا مارچ 33.9 ارب ڈالر سے بڑھ کر جولائی تا اپریل 38.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ترسیلاتِ زر میں اس اضافے نے کرنٹ اکاؤنٹ پر دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اگرچہ ماہرینِ معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ جغرافیائی سیاسی صورتحال کی وجہ سے ترسیلاتِ زر میں کمی آ سکتی ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ کا علاقائی نظام اس وقت تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے، اس لیے اس بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی کرنے سے پہلے انتظار کرنا ہی بہتر ہوگا۔ اس طرح کرنٹ اکاؤنٹ جولائی تا اپریل 252 ملین ڈالر کے خسارے میں تھا جبکہ جولائی تا مئی یہ 255 ملین ڈالر کے سرپلس (مثبت) میں رہا۔

دوسری بات یہ کہ جون کے اعداد و شمار میں نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو جولائی تا مارچ کے 4426.9 ارب روپے سے بڑھ کر جولائی تا اپریل میں 4621.8 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اس کی وجہ 14 اپریل کا صدارتی آرڈیننس ہے جس نے لیوی کی بالائی حد کو ختم کردیا اور حکومت کو یہ اختیار دیا کہ وہ جب چاہے اس میں اضافہ کرسکے۔ یہ سیلز ٹیکس کی ایک ایسی قسم ہے جسے جمع کرنا آسان ہے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ گھرانوں کی جیب پر منفی اثر ڈالتا ہے کیونکہ اس کا بوجھ امیروں کی نسبت غریب طبقوں پر زیادہ پڑتا ہے۔

اور آخر میں جون کے اعدادوشمار میں پورٹ فولیو سرمایہ کاری کے منفی رجحان میں بھی کمی دیکھی گئی جو جولائی تا اپریل کے منفی 1.377 ارب ڈالر سے بہتر ہوکر جولائی تا مئی میں منفی 1.145 ارب ڈالر رہ گئی جبکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی معمولی اضافہ ہوا جو جولائی تا اپریل کے 1.409 ارب ڈالر سے بڑھ کر جولائی تا مئی میں 1.623 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

اور نجی شعبے (پرائیویٹ سیکٹر) کو دیے گئے قرضوں میں جولائی تا 15 مئی کے 880.6 ارب روپے کے مقابلے میں جولائی تا 12 جون کے دوران معمولی کمی واقع ہوئی اور یہ 873.3 ارب روپے رہ گئے جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جون میں کریڈٹ میں یہ کمی کیوں اور کیسے ہوئی؟ تاہم اس کا استعمال لارج اسکیل مینوفیکچرنگ سیکٹر کی شرح نمو میں 0.1 فیصد کی کمی یعنی جولائی تا مارچ کے 6.5 فیصد سے کم ہو کر جولائی تا اپریل میں 6.4 فیصد ہونے کی توجیہ پیش کرنے کیلئے کیا جاسکتا ہے۔

ان دونوں رپورٹس کا تعارف ضرورت سے زیادہ پرامید ہے، مئی کی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ جاری مالی سال علاقائی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور توانائی سے متعلق جھٹکوں کے باوجود ملکی معیشت مسلسل بہتری اور اعتماد کی بحالی کی جانب گامزن رہی جب کہ جون کی اپ ڈیٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان کی معیشت بہتر میکرو اکنامک استحکام اور اقتصادی سرگرمیوں میں پائیدار بحالی کے ساتھ مالی سال 2026 کو ایک مضبوط بنیاد پر ختم کر رہی ہے۔

ان دونوں رپورٹس کے نتائج بھی ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہیں، مئی کی اپ ڈیٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی اہم برآمدی منڈیوں میں سرگرمیاں مجموعی طور پر رجحان کے مطابق ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جغرافیائی سیاسی خطرات سے مشروط بیرونی طلب مددگار ثابت ہو سکتی ہے جب کہ جون کی اپ ڈیٹ میں اس بات کو برقرار رکھا گیا کہ پاکستان کی اہم برآمدی منڈیوں میں سرگرمیاں ان کی طویل مدتی صلاحیت کے مطابق ہیں جو کہ معاون بیرونی طلب کا اشارہ دیتی ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس میں بے روزگاری کی بڑھتی ہوئی سطح کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا جسے آزاد ماہرینِ معاشیات نے پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے لیبر فورس سروے کے اعداد و شمار کی بنیاد پر 22 فیصد بتایا ہے اور نہ ہی اس میں غربت کی بڑھتی ہوئی سطح کا کوئی ذکر ہے جسے عالمی بینک نے کیلوریز (خوراک) کے پیمانے کی بنیاد پر 44 فیصد کی بلند سطح پر تخمینہ لگایا ہے۔

امید کی جاتی ہے کہ یہ اپ ڈیٹس، اگر غربت کی سطح اور بے روزگاری کے اعدادوشمار کو نمایاں نہیں کرسکتیں تو کم از کم ان کی رپورٹنگ ضرور شروع کریں گی تاکہ آئی ایم ایف کے موجودہ پروگرام کے تحت سخت انقباضی مالی اور مانیٹری پالیسیوں (بشمول یوٹیلیٹی ریٹس بڑھانے کے انتظامی اقدامات) کے عام عوام پر پڑنے والے اثرات کا بہتر اندازہ لگایا جا سکے۔ یہ رپورٹس محض کامیابیوں کا ایسا مجموعہ نہ بنیں جن کا اثر نچلی سطح پر کہیں محسوس ہی نہیں کیا جارہا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف