بجٹ 2026-27: ریلیف کی دم توڑتی امیدیں
- گزشتہ چند ماہ کے دوران حکومت سب کو مختلف گاجریں دکھاتی رہی۔ تاہم اب معاملات جس سمت میں جا رہے ہیں
اس سے پہلے یہ توقعات بڑھ رہی تھیں کہ بجٹ میں کچھ ریلیف دیا جائے گا اور معیشت کی اسٹیبلائزیشن سے گروتھ کی طرف منتقلی ممکن ہو سکے گی۔ رسمی کاروباری طبقے اور ملازمین مسلسل یہ مؤقف اٹھا رہے تھے کہ ان پر غیر منصفانہ طور پر بہت زیادہ ٹیکس عائد ہیں — اور یہ بات درست بھی ہے — جبکہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو بھی شعبہ جاتی ریلیف کی بڑی امیدیں تھیں۔ برآمد کنندگان اور دیگر طبقات سے بھی وعدے کیے گئے تھے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران حکومت سب کو مختلف گاجریں دکھاتی رہی۔ تاہم اب معاملات جس سمت میں جا رہے ہیں، اس میں زیادہ ریلیف ملنے کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ بجٹ کے اعداد و شمار — یعنی بنیادی حدف پہلے ہی آئی ایم ایف کے ساتھ طے کیے جا رہے ہیں، اور اب بحث اس بات پر ہے کہ ان اہداف کو کیسے حاصل کیا جائے۔
آئی ایم ایف عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود کسی نرمی کے موڈ میں نہیں ہے، اور ان اہداف کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو کاروباری طبقے اور تنخواہ دار افراد سے کیے گئے بیشتر وعدوں سے پیچھے ہٹنا پڑ سکتا ہے۔
اصل صورتحال یہی ہے۔ مجموعی معاشی نمو کی رفتار سست ہونے کا امکان ہے۔ اگلے سال کی جی ڈی پی گروتھ موجودہ مالی سال کے 3.7 فیصد کے عبوری اندازے سے بھی کم ہو سکتی ہے۔ بڑی صنعتوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جس کا ٹیکس وصولیوں پر منفی اثر پڑے گا۔ شرح سود بھی دوبارہ بڑھ رہی ہے، جس سے قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔
پٹرولیم لیوی کے ذریعے ٹیکس وصولیوں پر انحصار بڑھنے کا امکان ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ وفاقی حکومت کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ٹیکس وصولیوں کے مقابلے میں پٹرولیم لیوی سے 2.5 گنا زیادہ آمدن حاصل ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایف بی آر کے ہر 100 روپے پر وفاق کو صرف تقریباً 40 روپے ملتے ہیں، جبکہ پٹرولیم لیوی کی صورت میں پورا 100 روپے حکومت کے پاس رہتا ہے۔
اس طرح پٹرول کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے، جس سے کم گروتھ کے ساتھ مہنگائی بھی بلند سطح پر برقرار رہے گی۔ تنخواہ دار طبقے کو کچھ معمولی حقیقی ریلیف مل سکتا ہے — اور حکومتی اشتہارات میں اس سے کہیں زیادہ ریلیف دکھایا جا سکتا ہے۔ کم اور متوسط آمدن والے طبقے کے لیے ٹیکس میں کچھ کمی ہو سکتی ہے، جبکہ زیادہ تنخواہوں والے طبقے کو ٹیکس سرچارج میں کمی کے ذریعے کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔
اسی طرح کارپوریٹ سیکٹر کو سپر ٹیکس میں علامتی کمی مل سکتی ہے، لیکن ان کی دیگر بڑے مطالبات جیسے انٹرا کارپوریٹ ڈیویڈنڈ ٹیکس میں نرمی، منیمم ٹیکس میں رعایت وغیرہ ممکن ہے پوری نہ ہوں۔ اس لیے رسمی کاروبار اور ایکسپورٹ پر مبنی کمپنیاں بدستور نقصان میں رہنے کا خدشہ رکھتی ہیں۔
تاجر طبقہ بدستور فیورٹ رہے گا، جبکہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو بھی کچھ ریلیف مل سکتا ہے — جیسا کہ پہلے سیکشن 7E میں تبدیلیوں کی صورت میں دیا گیا ہے۔ حکومت ایک بار پھر گروتھ پیدا کرنے کے لیے ریئل اسٹیٹ پر انحصار کرنے کے پرانے فارمولے کی طرف جا رہی ہے۔ تاہم اس کا ممکنہ نتیجہ مستقبل میں ادائیگیوں کے توازن کے بحران کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت کا صبر ختم ہو رہا ہے۔
گھریلو بجلی صارفین، خاص طور پر 200 یونٹس یا اس سے کم استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بڑا جھٹکا آ سکتا ہے۔ حکومت ان کے لیے کراس سبسڈیز ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے بجلی کے بلوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے بڑھنے کے ساتھ۔ اس کا فائدہ ان طبقات کو منتقل نہیں کیا جائے گا جو اس وقت سبسڈی برداشت کر رہے ہیں، بلکہ اسے بجلی کے شعبے کی سبسڈی کم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس سے مہنگائی کی ایک نئی لہر اور مزید بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، لیکن موجودہ رجحان کے مطابق یہی پالیسی جاری رہنے کا امکان ہے۔


Comments