امریکا کی آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کیلئے نیا اتحاد بنانے کی کوشش
- رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ کے قیام کی منظوری دی ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی بحال کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد تشکیل دینے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ یہ بات امریکی محکمہ خارجہ کی ایک کیبل سے سامنے آئی ہے جو رائٹرز نے دیکھی۔
رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ کے قیام کی منظوری دی ہے، جو محکمہ خارجہ اور امریکی محکمہ دفاع کا مشترکہ اقدام ہے۔ اس منصوبے کو مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے بعد ایک نئے بحری سیکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔
کیبل کے مطابق اس اقدام کا مقصد خطے میں توانائی کی طویل المدتی سلامتی کو یقینی بنانا، اہم بحری انفرااسٹرکچر کا تحفظ اور اہم سمندری راستوں میں جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنا ہے۔
منصوبے میں دو اہم حصے شامل ہیں۔ محکمہ خارجہ کا حصہ اتحادی ممالک اور شپنگ انڈسٹری کے درمیان سفارتی رابطہ کاری کا کام کرے گا، جبکہ محکمہ دفاع (پینٹاگون) کا حصہ امریکی سینٹ کام ہیڈکوارٹرز سے حقیقی وقت میں بحری ٹریفک کی نگرانی اور جہازوں سے براہِ راست رابطہ کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی سفارتخانوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یکم مئی تک اتحادی ممالک کو اس منصوبے سے آگاہ کریں، تاہم روس، چین، بیلاروس، کیوبا اور دیگر مخالف ممالک کو اس میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
اس اقدام میں شرکت مختلف شکلوں میں ہو سکتی ہے، جن میں سفارتی تعاون، معلومات کا تبادلہ، پابندیوں پر عمل درآمد، بحری موجودگی یا دیگر معاونت شامل ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ منصوبہ میکسمم پریشر پالیسی سے الگ ہے اور اس کا مقصد خطے میں بحری راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل و گیس کی ایک بڑی گزرگاہ ہے، حالیہ تنازع کے بعد شدید متاثر ہوئی ہے اور اس سے ٹریفک میں نمایاں کمی آئی ہے۔
امریکا کا یہ اقدام ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور مذاکرات کے تعطل کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جس کے باعث خطے میں توانائی اور تجارت کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔


Comments