امن مذاکرات، نائب امریکی صدر جے ڈی وینس اسلام آباد پہنچ گئے
- صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر امریکی مذاکراتی ٹیم میں شامل
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اعلیٰ سطح وفد اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گیا۔
امریکی وفد میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔
امریکہ اور ایران کے اعلیٰ رہنما ہفتے کو چھ ہفتوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی غرض سے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود ہیں تاہم تہران نے یہ کہہ کر ان مذاکرات کو شکوک و شبہات کا شکار کر دیا کہ لبنان اور پابندیوں کے حوالے سے ٹھوس یقین دہانیوں کے بغیر بات چیت کا آغاز نہیں ہوسکتا۔
ذرائع کے مطابق امریکی وفد ہفتے کی صبح دو طیاروں میں اسلام آباد کے ایک ایئر بیس پر اترا۔
پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں ایرانی وفد جمعہ کو اسلام آباد پہنچا۔
یہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات ہوں گے اور 2015 کے بعد دونوں فریقین کے درمیان پہلے باضابطہ آمنے سامنے مذاکرات ہوں گے جب دونوں کے درمیان ایران کے ایٹمی پروگرام پر معاہدہ ہوا تھا۔
ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ صدارت کے دوران 2018 میں اس جوہری معاہدے کو ختم کردیا تھا۔ اسی سال ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جو چھ ہفتے قبل جنگ کے آغاز میں شہید ہو گئے تھے، امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مزید براہِ راست مذاکرات پر پابندی لگا دی تھی۔
ایران کے پاس کوئی مؤثر کارڈ نہیں ،ٹرمپ
قالیباف نے ایکس پر کہا کہ واشنگٹن پہلے ہی ایرانی اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ بندی پر اتفاق کر چکا تھا، جب تک ان وعدوں کو پورا نہیں کیا جاتا، مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔
اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ لبنان کی مہم ایران-امریکہ جنگ بندی کا حصہ نہیں جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ یہ اس کا حصہ ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق قالیباف نے علیحدہ طور پر یہ بھی کہا کہ اگر واشنگٹن نے ایک ایسی پیشکش کی جسے انہوں نے حقیقی معاہدہ قرار دیا اور ایران کو اس کے حقوق دیے تو ایران معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ایرانی مطالبات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ ایرانیوں کے زندہ رہنے کی واحد وجہ ایک معاہدے کے لیے مذاکرات کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ایرانیوں کو اس بات کا احساس نہیں کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کو قلیل مدتی دھمکی دینے کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور کارڈز موجود نہیں ہیں۔ آج ان کے زندہ رہنے کی واحد وجہ مذاکرات کرنا ہے!
وینس نے پاکستان روانگی کے وقت گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ مثبت نتائج کی توقع رکھتے ہیں۔
اسلام آباد میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے دونوں اطراف کی پیشگی ٹیموں کے ساتھ الگ الگ ابتدائی بات چیت کی ہے۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق تہران سے آنے والے وفد میں 70 ارکان شامل ہیں جن میں معاشی، سیکیورٹی اور سیاسی شعبوں کے تکنیکی ماہرین کے ساتھ ساتھ میڈیا اہلکار اور معاون عملہ بھی شامل ہے۔ پاکستانی حکومتی ذرائع نے بتایا کہ امریکی پیشگی ٹیم کے تقریباً 100 ارکان شہر میں موجود ہیں۔
مذاکرات کے قریبی ایک اور پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ ہم بہت پرامید ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مذاکرات ہفتے کو ہی ختم ہو جائیں گے تو ذرائع نے جواب دیا کہ اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا، یہ مذاکرات کسی مقررہ وقت کے پابند نہیں ہیں۔
مذاکرات سے قبل اسلام آباد میں غیرمعمولی لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا اور سڑکوں پر ہزاروں کی تعداد میں پیرا ملٹری فورسز اور فوج کے دستے تعینات ہیں۔
پاکستان کے وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے داخلہ طلال چوہدری نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ہم نے اس تقریب کے لیے کثیر جہتی (ملٹی لیئر) سیکیورٹی تعینات کی ہے جو باہمی ہم آہنگی، انٹیلی جنس اور مسلسل نگرانی پر مبنی ہے تاکہ کسی بھی قسم کے خلل کے بغیر مکمل کنٹرول کو یقینی بنایا جا سکے۔
ٹرمپ نے منگل کو جنگ میں دو ہفتوں کی فائر بندی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے رک گئے ہیں۔
تاہم، اس سے آبنائے ہرمز کی وہ ایرانی ناکہ بندی ختم نہیں ہوئی جس کی وجہ سے عالمی توانائی کی ترسیل میں تاریخ کا سب سے بڑا تعطل پیدا ہوا ہے اور نہ ہی اس سے لبنان میں اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے درمیان جاری متوازی جنگ میں کوئی کمی آئی ہے۔
لبنان میں جھڑپوں کا سلسلہ تھم نہ سکا
اسرائیلی اور لبنانی حکام کے مطابق امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یچیل لیٹر اور ان کی لبنانی ہم منصب ندا حمادہ معوض منگل کو واشنگٹن میں مذاکرات کریں گے۔ یہ پیش رفت ان متضاد اطلاعات کے درمیان سامنے آئی ہے کہ ان مذاکرات کا ایجنڈا کیا ہوگا۔
لبنانی صدارتی محل کے مطابق دونوں شخصیات کے درمیان جمعہ کو ٹیلی فون پر رابطہ ہوا جس میں جنگ بندی کے اعلان اور امریکی ثالثی میں دو طرفہ مذاکرات کی تاریخ طے کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ تاہم واشنگٹن میں اسرائیلی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات باضابطہ امن مذاکرات کا آغاز ہوگی ، اسرائیل نے حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی پر بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔
دوسری جانب جمعہ کو جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری رہے۔ صدر جوزف عون نے ایک بیان میں بتایا کہ نبطیہ شہر میں ایک سرکاری عمارت پر ہونے والے حملے میں لبنان کی اسٹیٹ سیکیورٹی فورسز کے 13 اہلکار مارے گئے۔
حزب اللہ نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر جاری ایک بیان میں کہا کہ اس نے جوابی کارروائی کے طور پر شمالی اسرائیل کے شہروں پر راکٹوں کی بارش کر دی ہے۔
اسلام آباد مذاکرات میں تہران کے ایجنڈے میں بڑے پیمانے پر نئی رعایتوں کے مطالبات بھی شامل ہیں، جن میں برسوں سے اس کی معیشت کو اپاہج بنانے والی پابندیوں کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر اس کی حاکمیت کو تسلیم کرنا شامل ہے۔ ایران کا مقصد وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹرانزٹ فیس وصول کرنا اور آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ہے، جو کہ علاقائی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی کے مترادف ہوگا۔
جمعہ کے روز آبنائے ہرمز سے ایرانی بحری جہاز تو بلا روک ٹوک گزر رہے تھے، لیکن دیگر ممالک کے جہاز وہیں پھنسے رہے۔
توانائی کی سپلائی میں اس تعطل نے مہنگائی کو ہوا دی ہے اور عالمی معیشت کی رفتار سست کر دی ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر مذاکرات کار آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے میں کامیاب ہو بھی گئے، تب بھی اس کے اثرات مہینوں تک برقرار رہیں گے۔

Comments