ٹرمپ کی حملے بڑھانے کی دھمکی، ایران کا ایک لیٹر تیل بھی نہ گزرنے دینے کا اعلان
- شدید بیانات کے باوجود خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور عالمی حصص میں بہتری دیکھی گئی
ایران کے اسلامی گارڈز نے منگل کو کہا ہے کہ اگر امریکی اور اسرائیلی حملے جاری رہے تو وہ مشرق وسطیٰ سے ایک لیٹر تیل بھی باہر نہیں جانے دیں گے، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران اس توانائی پیدا کرنے والے اہم علاقے سے برآمدات کو بلاک کرے گا تو امریکہ اسے کہیں زیادہ سخت نقصان پہنچائے گا۔
شدید بیانات کے باوجود خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور عالمی حصص میں بہتری دیکھی گئی، کیونکہ ٹرمپ نے توقع ظاہر کی کہ میزائل اور ہوائی حملوں کے باوجود جنگ جلد ختم ہو جائے گی، جبکہ ایران نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی تعیناتی کے ساتھ مزاحمت کا اشارہ دیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا اور ابتدائی چار ہفتوں کے اندر جنگ ختم ہونے کی پیش گوئی کی، تاہم فتح کی واضح تعریف نہیں کی۔ اسرائیل کا مقصد ایران کی مذہبی حکومت کو ختم کرنا ہے، جبکہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ہدف ایران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو تباہ کرنا ہے۔
ایران کے مطابق کم از کم 1,332 شہری جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں ٹینکر ٹریفک بلاک کرے گا تو امریکی حملے شدید ہوں گے۔
ایران کے ترجمان نے کہاکہ ہم جنگ کے اختتام کا فیصلہ کریں گے اور ٹرمپ کے بیانات کو فضول قرار دیا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان کم ہے۔
جنگ نے آبنائے ہرمز کو عملی طور پر بند کر دیا ہے، جس سے ٹینکر سفر نہیں کر پا رہے اور پیداوار رک گئی ہے۔ ٹرمپ نے روسی صدر سے بات کے بعد کچھ ممالک کے لیے تیل سے متعلق پابندیاں نرم کرنے کا اشارہ دیا۔
تیل کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کے بعد کم ہو گئیں جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹس میں بہتری آئی۔ ایران میں تیل کی ایک ریفائنری پر حملے کے بعد کالے دھوئیں کا غبار پھیل گیا، جس سے خوراک، پانی اور ہوا کی آلودگی کا خطرہ پیدا ہوا۔ اسرائیل نے ایران کے وسطی علاقوں اور لبنان کے دارالحکومت بیروت میں بھی حملے کیے۔
آسٹریلیا نے پانچ ایرانی خواتین فٹبال کھلاڑیوں کو انسانی بنیاد پر ویزا دیا اور کینیبرا نے خلیج میں دفاعی مدد کے لیے نگرانی کے طیارے اور میزائل بھیجنے کا وعدہ کیا۔


Comments