ٹرمپ روس سے متعلق پابندیوں اور ٹیرف کے معاشی اثرات کا جائزہ لینے کیلئے 60 دن تک کا وقت استعمال کریں گے
- یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی حوصلہ افزائی اور جنگ طول پکڑنے کا خدشہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس سے متعلق پابندیوں اور ٹیرف سے استثنیٰ دینے کے ایک روز بعد کہا ہے کہ انہوں نے اس معاملے پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے مزید وقت درکار ہونے کا عندیہ دیا ہے۔
مارکو روبیو نے ہفتے کو کہا کہ صدر روس سے متعلق پابندیوں اور ٹیرف کے معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے 60 دن تک کا وقت استعمال کریں گے۔ ٹرمپ نے جمعے کو ایک انتظامی حکم نامے کے ذریعے گراہم ایکٹ کے تحت اہم پابندیوں اور ٹیرف سے استثنیٰ دیا تھا۔ ان اقدامات میں روسی مصنوعات پر ٹیرف اور روسی تیل و گیس خریدنے والے ممالک کے خلاف ممکنہ پابندیاں شامل تھیں۔
مارکو روبیو کے مطابق اس فیصلے کا مقصد امریکی اور عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ہے۔ ایران جنگ کے باعث عالمی تیل کی فراہمی متاثر ہونے اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں یہ اقدام کیا گیا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی حوصلہ افزائی اور جنگ طول پکڑنے کا خدشہ ہے۔
مارکو روبیو نے روس سے ڈیزل کی فراہمی بڑھانے کے معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔