✕
مارکٹس

معاشی شرح نمو 4 فیصد سے تجاوز کرنے کی توقع، نجکاری سے ایک ارب ڈالر سے زائد حاصل کرنے کا ہدف

  • پاکستان مجوزہ 10 ارب ڈالر کی زرمبادلہ استحکام سہولت کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات بھی جاری رکھے ہوئے ہے، وزیر خزانہ
شائع اپ ڈیٹ

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کو خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت رواں مالی سال کے دوران تیل کی بلند قیمتوں کے باوجود 4 فیصد سے زیادہ ترقی کرسکتی ہے، جبکہ حکومت پانچ سے چھ اداروں کی نجکاری کے لیے کوششیں تیز کر رہی ہے، جس سے ایک ارب ڈالر سے زائد حاصل ہونے کا امکان ہے۔

پاکستان کی معیشت کو مشرق وسطیٰ میں طویل عرصے تک جاری رہنے والے تنازعے کے حوالے سے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ملک توانائی کی درآمدات، ترسیلاتِ زر اور خطے سے ملنے والی مالی معاونت کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، پاکستان زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے اور قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے بیرونی مالی معاونت پر بھی انحصار کرتا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ 25 کروڑ 50 لاکھ آبادی پر مشتمل جنوبی ایشیائی ملک مناسب مقدار میں ایندھن حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے اور اس طرح کسی بھی قسم کی قلت سے بچ گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زراعت جیسے اہم شعبے بھی بہتر طور پر کام کر رہے ہیں۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر بنکاک میں گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ مجھے اب بھی پورا یقین ہے کہ ہماری معاشی شرح نمو 4 فیصد سے زیادہ رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے معاملے پر بھی حکومت گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ اس کے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بالواسطہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

کووڈ 19 کی وبا کے باعث مزید شدت اختیار کرنے والے شدید معاشی بحران کے بعد، مالی وسائل کی کمی کا شکار پاکستانی معیشت نے کسی حد تک استحکام حاصل کیا ہے۔ اس بہتری میں آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے 37 ماہ کے قرض پروگرام کا اہم کردار ہے، جسے 2024 میں منظور کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کو توسیعی فنڈ سہولت کہا جاتا ہے اور اس میں سخت اقدامات بھی شامل ہیں، جن میں زرعی آمدن پر ٹیکس محصولات میں اضافہ بھی شامل ہے۔

زرمبادلہ کے استحکام کی سہولت

ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی قیادت میں جاری جنگ آٹھویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مہنگائی اور مشکلات کا موضوع اجلاسوں کے ایجنڈے پر غالب رہنے کی توقع ہے۔ یہ اجلاس تین سال میں پہلی مرتبہ واشنگٹن سے باہر منعقد ہو رہے ہیں۔

پاکستان نے گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کے ساتھ عملے کی سطح کا معاہدہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں توسیعی فنڈ سہولت اور موسمیاتی پروگرام کے تحت تقریباً 1.21 ارب ڈالر کی مالی معاونت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان مجوزہ 10 ارب ڈالر کی زرمبادلہ استحکام سہولت کے لیے امریکا کے ساتھ مذاکرات بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

تاہم انہوں نے مذاکرات مکمل ہونے کے لیے کوئی مدت بتانے سے گریز کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ سہولت حاصل ہو جاتی ہے تو یہ ہمارے لیے بہت بڑی مدد ہوگی۔ ان کے مطابق یہ سہولت امریکا کے ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم) اور امریکی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) کے ساتھ جاری مذاکرات کے علاوہ ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ سہولت حاصل نہ بھی ہوئی تو اس سے عالمی مالیاتی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی متاثر نہیں ہوگی۔

نجکاری کی کوششیں تیز

گزشتہ سال قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے بعد، محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت کے پاس مزید تقریباً ایک درجن اداروں کی نجکاری کا منصوبہ موجود ہے۔ ان میں سرکاری ملکیتی بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اور ہوائی اڈوں کے انتظامی امور نجی شعبے کے حوالے کرنا بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے توقع ہے کہ ان میں سے پانچ یا چھ اداروں کی نجکاری رواں مالی سال کے دوران مکمل ہو جائے گی۔ ان کے مطابق اس عمل سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ حاصل ہو سکتے ہیں۔

نجکاری کو آئی ایم ایف کے سامنے پاکستان کی اصلاحاتی پالیسیوں کی ساکھ کے لیے ایک اہم امتحان سمجھا جاتا ہے۔ حکام اس سے قبل خبردار کر چکے ہیں کہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کو فروخت کرنے میں ناکامی سے سرکاری مالیات پر دوبارہ دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم بالکل واضح ہیں کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کی قیادت نجی شعبہ کرے۔ لہٰذا ہمارا کردار ایسے ماحول کی تشکیل میں ہر ممکن مدد اور معاونت فراہم کرنا ہے۔