حوثیوں کے سعودی اہداف پر نئے حملے، آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات تعطل کا شکار
- حوثیوں نے پیر کو جنوبی سعودی عرب کے خمیس مشیط فوجی اڈے پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا
یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب پر حملوں کی نئی لہر شروع کردی، جبکہ بحیرہ احمر کے ساحل پر انکی پوزیشنیں مضبوط کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یمنی حکام کے مطابق حوثیوں کی تیز پیش قدمی کے بعد ریاض میں ان کے خلاف ممکنہ ردعمل پر ہنگامی مشاورت جاری ہے۔ دوسری جانب خلیجی عرب ممالک نے ایران کے ساتھ طے شدہ مذاکرات مؤخر کردیئے ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں تنازع مزید پھیلنے اور عالمی تیل رسد متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
حوثیوں نے پیر کو جنوبی سعودی عرب کے خمیس مشیط فوجی اڈے پر درجنوں میزائل اور ڈرون داغنے کا دعویٰ کیا۔ سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم اتحاد کے مطابق حملوں میں 13 شہری زخمی ہوئے۔ حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی، جس میں بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع جزیرہ پریم پر قبضہ بھی شامل ہے، سعودی تیل برآمدات کے لیے مزید خطرہ بن گئی ہے۔
گزشتہ ہفتے سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر حملے کے بعد یہ اہم تنصیب بند ہے۔ سعودی عرب نے حملے کا الزام عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیاؤں پر عائد کیا۔ تاجروں کے مطابق پائپ لائن کی طویل بندش سے عالمی تیل رسد کا 4 فیصد تک متاثر ہوسکتا ہے۔
ادھر امریکا نے سعودی درخواست کے باوجود براہ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا ہے۔ عمان میں ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق مذاکرات بھی مؤخر ہوگئے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کو بدستور بند قرار دیا ہے، جبکہ عالمی اہمیت کی اس تیل گزرگاہ سے جنگ شروع ہونے کے بعد سے جہاز رانی شدید متاثر ہے۔