دنیا

آبنائے ہرمز میں جہاز پر حملے کے بعد امریکا ایران مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار

  • مذاکرات اس وقت جاری ہیں اور یہ ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت دیگر ممالک کی درخواست پر ہو رہے ہیں، ٹرمپ
شائع اپ ڈیٹ

امریکا اور ایران کی جانب سے پانچ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی صورتحال پر متضاد بیانات نے منگل کو غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری جہاز پر تازہ حملے نے عالمی توانائی کی ترسیل کو درپیش خطرات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں اور تہران کے پاس ایک اچھا معاہدہ کرنے کا آخری موقع ہے۔ تاہم ایران نے مذاکرات کے انعقاد یا کسی ملاقات کے شیڈول کی تردید کر دی۔

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات اس وقت جاری ہیں اور یہ ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سمیت دیگر ممالک کی درخواست پر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایران کے لیے ایک آخری موقع ہے کہ وہ ایک اچھے معاہدے پر دستخط کرے۔

یہ بیان ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے ایران پر بڑے حملے مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا، حالانکہ وہ اس سے قبل ایسے حملوں کی منظوری دینے کا دعویٰ کر چکے تھے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا کہ امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ ہی کسی ملاقات کا منصوبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کا آئندہ دنوں میں کسی غیر ملکی وفد کی میزبانی یا مذاکرات کار بیرون ملک بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے علاوہ تمام مذاکرات کار ملک میں موجود ہیں، جبکہ عباس عراقچی مذہبی زیارت کے لیے عراق میں ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ صرف عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق بات چیت جاری ہے۔

ادھر خلیج میں بحری سرگرمیاں بھی کشیدگی کی عکاسی کر رہی ہیں۔ برطانوی ادارے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق عمان کے ساحل کے قریب ایک کارگو جہاز نے اطلاع دی کہ اسے نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔

کپلر کے مطابق پیر کو آبنائے ہرمز سے صرف 6 بحری جہاز گزرے، جن میں 3 آئل ٹینکرز اور 3 بلک کیریئرز شامل تھے، جبکہ گزشتہ روز یہ تعداد 7 تھی۔

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہونے کی امیدوں کے باعث عالمی منڈیوں میں مثبت ردعمل دیکھا گیا۔ پیر کو برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 7 فیصد کم ہو کر 83.77 ڈالر فی بیرل تک آگئی، جبکہ امریکی ڈاؤ جونز انڈیکس ریکارڈ سطح پر بند ہوا۔

منگل کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں اور تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔

خلیجی حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق ایران واشنگٹن پر دباؤ بڑھانے کے لیے مشرق وسطیٰ کے تجارتی راستوں، بحری گزرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو استعمال کر رہا ہے۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ کے ماہر مائیکل نائٹس کے مطابق ایران کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ علاقائی ممالک اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ٹرمپ نے بعد میں سوشل میڈیا پر ایران کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران نے ملاقات کی درخواست کی ہے اور مستقبل قریب میں مزید مذاکرات ہوں گے۔ انہوں نے دوبارہ دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول ہے۔

آبنائے ہرمز کا تنازع اب بھی امریکا اور ایران کے درمیان بنیادی اختلاف کا مرکز ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو یہ آبی راستہ کھولنا تھا، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں بحری آمدورفت پر اس کے اختیار کو برقرار رکھا گیا ہے۔