ٹرمپ نے پاکستان سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد نیا امریکی ٹیرف عائد کر دیا
- نئے ٹیرف ایسے وقت میں نافذ کیے گئے ہیں جب عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی مدت جمعہ کو ختم ہو گئی
ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان، یورپی یونین، چین اور دیگر ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 فیصد اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف عائد کر دیے ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ان ممالک نے جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندیوں پر مؤثر عملدرآمد نہیں کیا، جس سے غیر منصفانہ تجارتی فوائد حاصل کیے جا رہے ہیں۔
نئے ٹیرف ایسے وقت میں نافذ کیے گئے ہیں جب عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی مدت جمعہ کو ختم ہو گئی۔ یہ محصولات امریکی ٹریڈ ایکٹ 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کیے گئے ہیں، جس کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے۔
یاد رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے رواں سال فروری میں قومی ہنگامی قانون کے تحت ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ سال عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد باہمی ٹیرف کو کالعدم قرار دیا تھا۔ نئے اقدامات کو قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ سیکشن 301 ماضی میں عدالتی جانچ میں برقرار رہ چکا ہے۔
فیڈرل رجسٹر میں شائع ہونے والے نوٹس کے مطابق نئے ٹیرف امریکی درآمدات کے 99.4 فیصد حصے پر لاگو ہوں گے، تاہم تیل و گیس، کھاد، بعض غذائی اشیا، اہم معدنیات، ہوائی جہاز اور پرزہ جات، نیز پہلے سے قومی سلامتی کے ٹیرف کے تحت آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبہ اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی پر سختی سے عملدرآمد کر رہا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس کے تجارتی شراکت دار بھی یہی معیار اپنائیں۔
پاکستان، بھارت، کینیڈا، برطانیہ، بنگلہ دیش، ملائیشیا، میکسیکو، سری لنکا، انڈونیشیا، اردن اور دیگر ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے، جبکہ یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا، سوئٹزرلینڈ اور تائیوان پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات سمیت مجموعی شرح 10 یا 12.5 فیصد رکھی گئی ہے۔ دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرف لاگو ہوگا، جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چین پر مجموعی ٹیرف کو مستقبل میں دوبارہ 20 فیصد تک بڑھانے کا ارادہ ہے، جو نومبر 2025 میں صدر شی جن پنگ کے ساتھ ہونے والی تجارتی مفاہمت کے مطابق ہوگا، تاہم اس سے زیادہ نہیں بڑھایا جائے گا۔
دوسری جانب یورپی یونین، آسٹریلیا، برازیل، ناروے اور کینیڈا نے امریکی اقدام پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے کہا کہ امریکی مؤقف سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ یورپ میں مزدوروں کے حقوق اور لیبر قوانین امریکا سے زیادہ مضبوط ہیں۔
ماہرین کے مطابق نئے ٹیرف کو عدالت میں چیلنج کرنا نسبتاً مشکل ہوگا کیونکہ سیکشن 301 کے تحت حکومت کو محصولات میں ردوبدل کے وسیع اختیارات حاصل ہیں، جبکہ امریکی کانگریس میں دونوں بڑی جماعتیں عالمی سپلائی چین سے جبری مشقت کے خاتمے کی حمایت کرتی رہی ہیں۔