ایران کے خلاف جنگ پر اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے، پینٹاگون کا انکشاف
- یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پینٹاگون نے 37.5 ارب ڈالر کی لاگت کا تخمینہ کس بنیاد پر لگایا
امریکہ کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے منگل کو بتایا کہ ایران کے خلاف جاری امریکی جنگ پر اب تک 37.5 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے یہ بیان شدید فضائی حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد پہلی بار شکوک و تحفظات رکھنے والے قانون سازوں کے سامنے پیشی ہونے کے دوران دیا جہاں وہ اس غیر مقبول جنگ کے لیے ہنگامی فنڈز کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کررہے تھے۔
امریکی صد ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں محض چھ ماہ باقی رہ گئے ہیں جبکہ دوسری جانب ڈیموکریٹس اس غیر مقبول ایرانی جنگ کو مہنگائی اور مالی مشکلات سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہوئے عوامی جائزوں میں کافی آگے دکھائی دے رہے ہیں۔
پیٹ ہیگسیتھ نے واشنگٹن میں ایک سماعت کے دوران قانون سازوں کو بتایا کہ 37.5 ارب ڈالر کی اس رقم میں جنگ کے بعض دیگر پہلوؤں کے ساتھ ساتھ 30 ستمبر تک کے متوقع اخراجات بھی شامل ہیں۔
یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پینٹاگون نے 37.5 ارب ڈالر کی اس لاگت کا تخمینہ کس بنیاد پر لگایا۔ تاہم مارچ میں ایک ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندازے کے مطابق جنگ کے ابتدائی چھ دنوں پر ہی کم از کم 11.3 ارب ڈالر خرچ ہوچکے تھے۔
گزشتہ ماہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس سے تقریباً 90 ارب ڈالر کے اضافی فنڈز کی منظوری طلب کی جن میں زیادہ تر رقم ایران کے ساتھ جاری تنازع سے متعلق تھی۔ اس درخواست کے بعد جنگ سے نالاں اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کا سامنا کرنے والے قانون سازوں کے ساتھ ایک نئی سیاسی کشمکش کا آغاز ہونے کا امکان پیدا ہوگیا۔
امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر بمباری شروع ہونے کے بعد سے ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے قانون ساز شکایت کرتے رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم نے انہیں نہ تو جنگ کی صورتحال سے مناسب طور پر آگاہ رکھا اور نہ ہی اپنے آئندہ کے منصوبوں سے متعلق اعتماد میں لیا۔
سماعت کے دوران سینیٹ کی اپروپری ایشنز کمیٹی کی سرکردہ ڈیموکریٹ رکن سینیٹر پیٹی مرے نے کہا کہ صدر جنگ کو مزید وسعت دینے اور جنگی جرائم کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور یہ تاثر دے رہے ہیں کہ یہ ایک اور طویل، نہ ختم ہونے والی جنگ بن سکتی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار ایران کے خلاف سخت دھمکیاں دے چکے ہیں جن میں شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی بات بھی شامل ہے جسے ناقدین کے مطابق جنگی جرم قرار دیا جاسکتا ہے۔
ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں ٹرمپ کی ریپبلکن جماعت کی اکثریت انتہائی معمولی ہے، اس لیے بجٹ اور فنڈز سے متعلق بلوں کی منظوری کے لیے انہیں عموماً ڈیموکریٹس کی حمایت درکار ہوتی ہے۔
ڈیموکریٹ سینیٹر کرسٹن گلیبرانڈ نے سماعت کے دوران کہا کہ لوگ آپ اور اس انتظامیہ سے اس لیے سخت ناراض ہیں کیونکہ آپ نے ماضی میں جو بیانات دیے وہ ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ جنگ ختم ہو چکی ہے، پھر کہا جاتا ہے کہ ختم نہیں ہوئی۔ کبھی دو ہفتوں کی بات کی جاتی ہے، پھر وہ بھی نہیں رہتی۔ کبھی میزائل حملوں کی بات ہوتی ہے، پھر اس کی تردید کر دی جاتی ہے۔