کاروبار اور معیشت

عالمی کشیدگی میں کمی، وزیر خزانہ کو مالی سال 27 میں معاشی نمو میں تیزی، مہنگائی میں کمی کی توقع

  • حکومت کی اقتصادی حکمتِ عملی اب میکرو اکنامک اسٹیبلائزیشن سے آگے بڑھ کر پائیدار اور برآمدات پر مبنی ترقی کی طرف منتقلی پر مرکوز ہے، محمد اورنگزیب
شائع June 15, 2026 اپ ڈیٹ June 15, 2026 02:03pm

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مالی سال 2026-27 میں پاکستان کی اقتصادی شرحِ نمو، مہنگائی، زرمبادلہ ذخائر اور شرحِ سود کے حوالے سے نمایاں بہتری کی گنجائش موجود ہے بشرطیکہ ملک کو مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے دوسرے اور تیسرے درجے کے اثرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے پیر کو بلومبرگ نیوز کو بتایا کہ آئندہ سال کے لیے ہم جی ڈی پی گروتھ کو 4 فیصد اور افراطِ زر کو 8.2 فیصد پر دیکھ رہے ہیں۔ اگر ہمیں جاری تنازع کے دوسرے اور تیسرے درجے کے اثرات کا سامنا نہ کرنا پڑا تو ان دونوں اعداد و شمار میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔

پاکستان نے جمعہ کو مالی سال 27-2026 کے لیے 18.77 ٹریلین روپے کا وفاقی بجٹ پیش کیا جس میں معیشت کی شرح نمو 4 فیصد اور اوسط افراطِ زر (مہنگائی) کی شرح 8.2 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

بلومبرگ نیوز کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان نے جاری مالی سال کے لیے اپنی گروتھ کی شرح کو 4 فیصد سے کم کر کے 3.7 فیصد کر دیا ہے جس کی بنیادی وجہ گزشتہ تین ماہ کے دوران علاقائی کشیدگی کے براہِ راست اثرات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک نے تنازع کے فوری معاشی اثرات کو کامیابی سے سنبھال لیا ہے تاہم خبردار کیا کہ معمول کی صورتحال تک بحالی میں وقت لگے گا کیونکہ بحران کے دوران نقصان پہنچنے والے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر بحال کرنے میں ہفتوں اور مہینے درکار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ معمول پر واپس آنے میں چند ماہ لگیں گے۔

وزیرِ خزانہ نے کہا کہ حکومت کی اقتصادی حکمتِ عملی اب میکرو اکنامک اسٹیبلائزیشن سے آگے بڑھ کر پائیدار اور برآمدات پر مبنی ترقی کی طرف منتقلی پر مرکوز ہے جو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کے بعد ممکن ہوئی ہے۔

وزیر خزانہ نے زور دیا کہ طویل مدتی معاشی استحکام کا انحصار برآمدات کو تیز کرنے اور پاکستان کے دیرینہ ادائیگیوں کے توازن کے چیلنجوں کو حل کرنے پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں برآمدات پر مبنی نمو کی طرف بڑھنا ہوگا کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو ہمارے ادائیگیوں کے توازن کے مسئلے کو حل کرے گی اور آئی ایم ایف پر ہمارا انحصار کم کرے گی۔

وزیر خزانہ نے مالی سال 27 کے لیے حکومت کے 15.26 ٹریلین روپے کے ٹیکس ریونیو ہدف کا بھی دفاع کیا اور اسے بلند نظر لیکن گزشتہ دو سالوں کے دوران ٹیکس وصولی میں ریکارڈ کی گئی بہتری کی بنیاد پر قابلِ حصول قرار دیا۔

وزیر خزانہ کے یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کی صبح سوشل میڈیا پر بتایا کہ امریکہ اور ایران نے اپنی جنگ ختم کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے کر لیا ہے۔

اس معاہدے کی حتمی شرائط فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ یہ معاہدہ لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا تقاضا کرتا ہے۔