ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے بعد امریکا کے ایران پر نئے حملے
- ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اپاچی ہیلی کاپٹر کو ایرانی یک طرفہ حملہ آور ڈرون نے نشانہ بنایا
امریکا نے منگل کے روز ایران کے خلاف فضائی حملے شروع کر دیے، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا، جس کے جواب میں امریکی کارروائی کی گئی۔
ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے ہمارا ہیلی کاپٹر گرایا ہے اور ہم اسی وقت جواب دے رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ جواب انتہائی مضبوط اور طاقتور ہونا چاہیے اور یہی ہو رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں امریکی پائلٹ محفوظ رہے۔
ایک امریکی عہدیدار کے مطابق اپاچی ہیلی کاپٹر کو ایرانی یک طرفہ حملہ آور ڈرون نے نشانہ بنایا۔ دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ قشم پر حملہ ہوا جبکہ سیریک کے علاقے میں بھی ایک میزائل یا گولے کے گرنے کی تصدیق کی گئی۔ صوبہ ہرمزگان کے مشرقی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہیلی کاپٹر واقعے پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ خطے میں موجود غیر ملکی افواج حادثات یا فائرنگ کی زد میں آ سکتی ہیں اور خطرات کم کرنے کا بہترین طریقہ ان کا خطے سے انخلا ہے۔ بعد ازاں ایرانی میڈیا نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز میں ایران نے کوئی جارحانہ فضائی کارروائی نہیں کی۔
ادھر لبنان میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے تاریخی بندرگاہی شہر صور پر حملہ کیا جس میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ مارچ میں جھڑپوں کے آغاز کے بعد شہر پر سب سے مہلک حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ واقعہ امن مذاکرات کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے بھی خطرات بڑھا رہی ہے۔