امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے کے معاہدے کے قریب پہنچ گئے
- تہران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی معاہدے سے اس کے جوہری پروگرام پر کوئی پابندی قبول نہیں کی جائے گی
امریکا اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ معاہدے کی امیدیں بڑھ گئی ہیں، جبکہ امریکی حکام کے مطابق دونوں ممالک اتوار تک کسی سمجھوتے پر پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی معاہدے سے اس کے جوہری پروگرام پر کوئی پابندی قبول نہیں کی جائے گی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھارت کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں دنیا کو اچھی خبر مل سکتی ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ امریکا، ایران اور دیگر ممالک کے درمیان معاہدے پر زیادہ تر مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو بھی یقین دہانی کرائی کہ کسی حتمی معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کے خاتمے اور افزودہ یورینیم کے انخلا کو شامل کیا جائے گا۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران دنیا کو یقین دلانے کے لیے تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا، تاہم یورینیم افزودگی کا معاملہ 60 روز کے لیے مؤخر کیا جا سکتا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطابق امریکا نے ایران کے منجمد فنڈز جزوی طور پر بحال کرنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال کی جائے گی۔ اس پیشرفت پر یورپی رہنماؤں نے بھی خیرمقدم کیا ہے کیونکہ اس سے عالمی توانائی منڈیوں کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان جلد ہی امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک اور دور کی میزبانی کر سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آرمی چیف عاصم منیر نے بھی علاقائی امن سے متعلق اہم رابطوں میں حصہ لیا۔
دوسری جانب ایران کی مرکزی فوجی کمان کے سربراہ علی عبداللہی نے تہران میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی افواج مکمل جنگی تیاری میں ہیں اور کسی بھی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔