مشرق وسطیٰ جنگ نے معاشی خطرات میں نمایاں اضافہ کردیا، اسٹیٹ بینک
- مہنگائی، تجارتی سرگرمیوں، ترسیلات زر اور معاشی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، رپورٹ
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ نے پاکستان کی معیشت کیلئے خطرات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی، تجارتی سرگرمیوں، ترسیلات زر اور معاشی ترقی پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
اسٹیٹ بینک نے منگل کو جاری کردہ اپنی رپورٹ اسٹیٹ آف پاکستان اکانومی، ہاف ایئر رپورٹ مالی سال 26 میں کہا کہ فروری 2026 سے مشرق وسطیٰ کی جنگ نے عالمی غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے جبکہ طویل سپلائی چین رکاوٹیں پاکستان کے بیرونی شعبے اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں کو مزید دباؤ میں لا سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد حکومت نے معاشی استحکام برقرار رکھنے کیلئے کفایت شعاری اقدامات متعارف کرائے۔ تاہم عالمی توانائی قیمتوں میں اضافے کے اثرات فوری طور پر ملکی مہنگائی میں منتقل ہوئے، اگرچہ حکومت نے ابتدا میں اس اضافے کا بڑا حصہ خود برداشت کیا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق خلیجی ممالک میں معاشی سست روی پاکستان کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ مجموعی ترسیلات زر کا تقریباً 55 فیصد انہی ممالک سے آتا ہے۔ جنگ کے باعث سپلائی چین متاثر ہونے سے خام مال، مشینری اور کھاد کی قلت پیدا ہوسکتی ہے، جس سے صنعتی پیداوار، برآمدات اور زرعی شعبہ متاثر ہوگا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ قلیل مدتی معاشی صورتحال مستحکم ہے، تاہم جنگ طویل ہونے کی صورت میں درمیانی مدت میں خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے اندازہ ظاہر کیا کہ مالی سال 2025-26 میں حقیقی جی ڈی پی نمو 3.75 سے 4.75 فیصد کی متوقع حد کے نچلے حصے کے قریب رہ سکتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق غذائی اجناس کی بہتر پیداوار کے باعث فوڈ انفلیشن میں کچھ کمی آسکتی ہے، تاہم توانائی مہنگائی میں اضافہ متوقع ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ قومی کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) مالی سال 26 کے باقی مہینوں اور مالی سال 27 میں 5 سے 7 فیصد کے درمیانی مدتی ہدف سے اوپر رہ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بلند توانائی قیمتیں، فریٹ چارجز اور انشورنس لاگت پاکستان کے درآمدی بل میں اضافے کا باعث بنیں گی جبکہ برآمدات عالمی معاشی سست روی، چاول کی کم قیمتوں اور سرحدی بندشوں کے باعث دباؤ کا شکار رہنے کا امکان ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026