اپٹما کا حکومت سے کیپٹو پاور لیوی معقول بنانے کا مطالبہ
- صنعتی شعبے کے لیے بجلی کی لاگت بڑھ کر 75 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی ہے
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کیپٹو پاور لیوی کو معقول بنایا جائے، کیونکہ اس کے باعث صنعتی شعبے کے لیے بجلی کی لاگت بڑھ کر 75 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ لوڈ شیڈنگ بھی صنعتی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کو لکھے گئے خط میں اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد نے حکومت کی سفارتی کوششوں کو سراہا، جن کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار پاکستان کو عالمی سطح پر امن قائم کرنے والے ملک کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے، جو ایک اہم اور بروقت تبدیلی ہے۔ ان کے مطابق تیل کی قیمتوں میں استحکام اور کشیدگی میں کمی کے بعد پاکستان کے پاس معاشی اور اسٹریٹجک طور پر اپنی پوزیشن بہتر بنانے کا موقع موجود ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان بارہا سازگار عالمی حالات کو معاشی فائدے میں تبدیل کرنے میں ناکام رہا ہے، کیونکہ ملکی پالیسی ڈھانچہ اب بھی مسابقت کو محدود کر رہا ہے اور کاروبار کرنے کی لاگت ناقابلِ برداشت سطح تک پہنچ چکی ہے۔
اپٹما کے مطابق صنعتی شعبہ پہلے ہی لوڈ شیڈنگ کا شکار ہے جبکہ متبادل توانائی کے ذرائع مزید مہنگے ہو رہے ہیں۔ فرنس آئل پر 80,000 روپے فی ٹن لیوی عائد ہے، جس کی قیمت تقریباً 330,000 روپے فی ٹن ہے، جس کے باعث کیپٹو پاور جنریشن کی لاگت بڑھ کر تقریباً 75 روپے فی یونٹ ہو گئی ہے، جو گرڈ ٹیرف (32 روپے فی یونٹ) سے دو گنا سے زیادہ ہے۔
تنظیم نے کہا کہ یہ فرق پاکستانی صنعتکاروں کو علاقائی حریفوں کے مقابلے میں شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ اپٹما نے اس لیوی کو غیر معقول قرار دیتے ہوئے فوری نظرثانی اور ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کامران ارشد نے کہا کہ موجودہ حالات میں جب لوڈ شیڈنگ پہلے ہی پیداوار کو متاثر کر رہی ہے، ایسی پالیسیاں لاگت میں اضافہ اور برآمدی صلاحیت میں کمی کا باعث بن رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ صنعتی شعبے کو برابری کی سطح فراہم کرنے کے لیے ان اقدامات پر نظرثانی کی جائے۔
اپٹما نے کہا کہ معاشی پالیسیوں کو بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے مطابق ڈھال کر پاکستان نہ صرف اپنی سفارتی حیثیت بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پائیدار معاشی ترقی بھی حاصل کر سکتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026