لڑائی کے بجائے بات چیت بہتر ہے، چینی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے گفتگو
- امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل گئی ہے، جس کے باعث آبنائے ہرمز میں توانائی کی شدید رکاوٹ پیدا ہو گئی ہے
- یہ وہ اہم گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے
چین کے اعلیٰ سفارتکار نے منگل کے روز ایک ٹیلیفونک رابطے میں اپنے ایرانی ہم منصب پر زور دیا ہے کہ ”لڑائی کے بجائے بات چیت ہمیشہ بہتر ہوتی ہے“، یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب تہران نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ مذاکرات جاری ہیں۔
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل چکی ہے اور اس کے باعث آبنائے ہرمز میں توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے، جو عالمی خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرنے کا راستہ ہے۔
امریکی صدر نے پیر کو کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ ایران کی قیادت میں شامل ایک ”اہم شخصیت“ سے رابطے میں ہے، جبکہ انہوں نے ایران کے پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے کی ڈیڈ لائن میں پانچ دن کی توسیع بھی کر دی۔
تاہم تہران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ”کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے“، اور ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ وہ ”مالیاتی اور تیل کی منڈیوں کو متاثر کرنے کی کوشش“ کر رہے ہیں۔
بیجنگ ایران کا ایک اہم شراکت دار ہے، تاہم اس نے کہا ہے کہ وہ خلیجی ریاستوں میں امریکی اڈوں پر تہران کے حملوں کی حمایت نہیں کرتا اور جنگ بندی پر زور دیا ہے۔
چین کی وزارتِ خارجہ کے مطابق وانگ یی نے عباس عراقچی سے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ”تمام فریق امن کے ہر موقع سے فائدہ اٹھائیں اور جلد از جلد مذاکرات کا عمل شروع کریں۔“
بیان کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت ممکن ہے، سوائے اُن ممالک کے جہازوں کے جو اس وقت تنازع میں شامل ہیں۔
انہوں نے وانگ یی کو بتایا کہ ”ایران صرف عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ تنازع کے مکمل خاتمے کا خواہاں ہے“، اور چین کی انسانی امداد پر اس کا شکریہ بھی ادا کیا۔
چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ رابطہ ایرانی فریق کی درخواست پر کیا گیا۔
ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسی ماہ بیجنگ کا دورہ کرنا تھا، تاہم انہوں نے جنگ کے اثرات سے نمٹنے کے لیے یہ دورہ مؤخر کر دیا اور چین سمیت دیگر ممالک پر زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد کریں۔